رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 31
31 فرمایا : حج کے متعلق اور بھی میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے۔اللفضل 23۔مئی 1921ء صفحہ 8 +1914 44 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں گاڑی میں بیٹا ہوا کہیں سے آرہا ہوں کہ راستہ میں مجھے کسی نے بتایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح وفات پاگئے ہیں یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ حضرت خلیفہ اول بیمار تھے انہیں ایام میں مجھے ایک ضروری کام کے لئے لاہور جانے کی ضرورت محسوس ہوئی مگر اس رویا کی وجہ سے میں نے لاہور جانا ملتوی کر دیا اور میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ مجھے رویا میں گاڑی سوار ہونے کی حالت میں حضرت خلیفہ اول کی وفات کی خبر ملی ایسا نہ ہو کہ میں باہر جاؤں اور یہی واقعہ ہو جائے۔پس میں نے اپنے سفر کو ملتوی کر دیا تا کہ یہ خواب کسی طرح ٹل جائے مگر انسان خدا تعالی کے فیصلہ سے بچنے کی خواہ کس قدر کوشش کرے بعض دفعہ تقدیر پوری ہو کر رہتی ہے۔آپ کی بیماری کے ایام میں آپ کے حکم کے ماتحت جمعہ بھی اور دوسری نمازیں بھی میں ہی پڑھایا کرتا تھا۔ایک دن جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد اقصیٰ میں گیا اور نماز سے فارغ ہو کر تھوڑی دیر کے لئے میں اپنے گھر چلا گیا۔اتنے میں خان محمد علی خاں صاحب کا ایک ملازم میرے پاس ان کا پیغام لے کر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے۔چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر ان کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ابھی ہم راستہ میں ہی تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے ہیں۔اس طرح وہ رویا پورا ہو گیا جو میں نے دیکھا تھا کہ میں گاڑی میں کہیں سے آرہا ہوں کہ مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔میں نے محض اس لئے کہ یہ خواب مل جائے باہر جانے سے اپنے آپ کو رو کا مگر خدا تعالی نے قادیان میں ہی اس کو پورا کر دیا۔الموعود صفحہ 124 - 125 ( تقریر جلسہ سالانہ 28۔دسمبر 1944ء)۔نیز دیکھیں۔اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات صفحہ 104 106 والفضل 20۔فروری 1958ء صفحہ 4 و خلافت راشدہ صفحه 99 مارچ 1914ء 45 فرمایا : میں جب اس فتنہ (فتنہ پیغام۔ناقل) سے گھبرایا اور اپنے رب کے حضور میں گرا تو