رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 33

33 8۔اگست 1961 ء صفحہ 4 و 3۔جنوری 1982 ء صفحہ 1 اور الموعود ( تقریر جلسہ سالانہ 1928 ء دسمبر 1944ء) صفحہ 109 و صفحه 148 - خلافت را شده صفحه 262 والقول الفضل صفحه 57 مارچ 1914ء 48 فرمایا : جس وقت بیعت ( بیعت خلافت ثانیہ) ہو چکی تو میرے قدم ڈگمگائے اور میں نے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس کیا۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اس بات سے لوٹ سکوں۔میں نے بہت غور کی اور بہت سوچا لیکن کوئی طرز مجھے معلوم نہ ہوئی۔اس کے بعد بھی کئی دن میں اس فکر میں رہا تو خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں دشوار گزار راستہ دیکھ کر میں گھبرا گیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا۔جب میں نے لوٹنے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور لوٹنے کی کوئی صورت نہیں۔اس سے مجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔برکات خلافت صفحہ 6( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1914ء) 21-20 مارچ 1914ء 49 فرمایا : میں نے دیکھا کہ دو سانپ ہیں باریک باریک ڈیڑھ بالشت۔ایک کے مارنے کو مولوی فضل الدین کو کہا اور ایک کو خود مارنے لگا۔جس کو میں نے مارنا چاہا وہ دروازے سے بھاگ کر برآمدہ میں آگیا۔وہاں میں اس کے مارنے کی فکر میں تھا کہ چند آدمیوں نے دروازہ پر دستک دی۔دروازہ کھولا تو سب سے اول شیخ عبدالرحمان قادیانی نکلا۔وہ لوگ اندر آگئے میں نے اور ایک اور نے اس سانپ کو مارنے کے لئے وار کیا۔دوسرے کا وار خالی گیا مگر میں نے اس کو مار لیا۔پھر اور چھوٹے چھوٹے سانپ جو انگلی کے برابر تا گے جیسے باریک دیکھے ان کو بھی مارا پھر مولوی فضل الدین سے پوچھا۔آپ نے اپنا سانپ مار لیا تو انہوں نے کہا میں نے مارا تھا۔بھاگ گیا۔پھر نظارہ بدل گیا۔دیکھا ایک میدان میں ہوں۔وہاں بھی ایک سانپ دیکھا اس کو بھی مار