رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 282

282 پکڑ کر فرمایا کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جاتا۔اس وقت میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ خیال نہیں کہ اس نے نافرمانی کی ہے بلکہ آپ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ تعلق کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میرا پاس رہنا ضروری ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بغیر استثناء کے بیٹھا رہا تو دوسرے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ حکم کا مانا ضروری نہیں تو آپ یہ بتانے کے لئے اور یہ احساس پیدا کرنے کے لئے کہ حکم کی پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے اور اس وسوسہ کو دور کرنے کے لئے جو اس نوجوان کے بیٹھنے سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا ہے اس نوجوان سے فرماتے ہیں کہ جاتا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جانا۔دوسرے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اس نوجوان نے بیٹھنا ہو اور نکالنے والے اس کو باہر نکال دیں اور اس کی بہتک ہو تو یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصود تھیں کہ نکالنے والے اس کو نکالیں نہیں۔اور اس کے بیٹھے رہنے کی وجہ سے کسی کو ٹھو کر بھی نہ لگے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ حکم کا ماننا ضروری نہیں کیونکہ یہ نوجوان حکم کے باوجو د بیٹھا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جانا۔اس وقت میری آنکھ کھل گئی۔اس رویا میں بڑے اہم معاملات بتائے گئے ہیں ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ میرے پیچھے چل رہے ہیں جس میں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس زمانہ میں احمدیت کی ترقی کو میرے ساتھ وابستہ کر دیا ہے گویا جدھر میں ہوں گا ادھر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوں گے اور ادھر ہی خدا تعالیٰ ہوگا۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے کہنے پر کہ اب دوست چلے جائیں اور جب بعض لوگوں نے سستی دکھائی تو اس پر آپ کا جوش میں آجانا کہ لوگوں نے کیوں فرمانبرداری نہیں کی اور اس جوش میں چار پائی سے ہٹا کر اس نوجوان کے بازو کو پکڑ کر کہنا کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو میں نے نہیں جانا۔یہ بتاتا ہے کہ امام کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کو مانا بھی ضروری ہے اور جو لوگ اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ خداتعالی کی ناراضگی کا موجب بنتے ہیں۔تیسرے اس رویا میں اللہ تعالیٰ نے فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا کے ماتحت