رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 283

283 اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جماعت کو چاہئے کہ ایک مقصد کو سامنے رکھ کر کام کرے اگر جماعت ہمیشہ ایک مقصد کو سامنے رکھ کر کام کرے گی تو خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو اپنا چہرہ دکھانے میں بخل نہیں کرے گا۔الفضل 7۔مئی 1945ء صفحہ 3 5C مئی 1945ء 353 ڈلہوزی میں میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ کوئی شخص ماریسن نامی انگریز ہیں وہ کہتے ہیں کہ چالیس سال کے عرصہ تک کانگڑہ کے ضلع میں میرے جیسا اور عقلمند آدمی پیدا نہیں ہو گا یا شاید یہ کہا ہے کہ پایا نہیں جائے گا میں اس وقت رویا میں سمجھتا ہوں کہ ماریسن سے وہ وزیر مراد ہے جو لیبر پارٹی کی طرف سے وزارت میں شامل ہیں۔یہ فقرہ سن کر میرے دل میں فور آیہ بات گزری کہ انشاء اللہ انہوں نے نہیں کہا اگر یہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو اچھا تھا پھر ساتھ میرے دل میں یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ کانگڑے کے ساتھ ان کا کیا تعلق ہے کانگڑہ ہندوستان کا علاقہ ہے اور یہ انگلستان کے رہنے والے ہیں اس سوال کے پیدا ہوتے ہی میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ کانگڑے کا لفظ استعارہ انگلستان کے لئے بولا گیا ہے اور کانگڑے میں چونکہ آتش فشاں پہاڑ ہیں اس لفظ میں انگلستان کی آئندہ حالت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ انگلستان میں بہت کچھ رد و بدل اور اتار چڑھاؤ کا زمانہ آ رہا ہے جس طرح آتش فشاں علاقے میں زلزلے آتے رہتے ہیں اس طرح انگلستان میں بھی سیاسی اور اقتصادی اتار چڑھاؤ رونما ہونے والے ہیں اور مسٹر ماریسن کے قول کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے تغیرات اور فساد کے وقت میں سب سے اچھا کام کرنے والا ثابت ہو گا۔الفضل 11۔مئی 1945 ء صفحہ 1 نیز دیکھیں۔الفضل یکم اگست 1945ء صفحہ 1و2 اور سیر روحانی جلد 2 صفحہ 41 ( شائع کردہ الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ ) الفضل 12 - فروری 1957ء صفحہ 6 354 13 جون 1945ء ( روایت مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب) فرمایا : 13 جون کو حضرت مصلح موعود کا قلم ( فونٹین پن) گم ہو گیا۔حضرت نے اس کی بہت تلاش کی لیکن وہ کہیں نہ ملا اس دن حضور کی باری سیدہ ام متین صاحبہ حرم ثالث کے ہاں تھی۔جب حضور وہاں تشریف لے گئے تو حضور پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور حضور نے کشف میں