رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 21

21 آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور میں نے کہا کہ حضور میں نے تو زیادتی علم کے طور پر سوال کیا تھا ورنہ میں نے تو آپ کے الہام اس قدر کثرت سے پڑھے ہیں کہ وہ مجھے یاد ہو گئے ہیں۔الفضل 10 مئی 1944ء صفحہ 6 29 غالباً 1910ء فرمایا : ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الاول نے مجھے خطبہ جمعہ پڑھنے کے لئے فرمایا وہ جمعرات کا دن تھا۔اس دن شام کے وقت میرے دل پر ایک تحریک ہوئی اور وہ یہ کہ میں جماعت کے سامنے اس آیت پر خطبہ پڑھوں کہ وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 31) اور یہ خیال ایسا غالب ہوا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔نماز میں میری توجہ اس طرف پھر گئی اور اس آیت کے متعلق مجھے بہت وسیع مطالب القاء کے طور پر سمجھائے گئے۔ذکر الہی صفحہ 34 ( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1916ء) 30 +1911/1910 فرمایا : پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا ہے۔تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے وعدہ کیا تھا اِنّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا شاید خدا کے مسیح کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔اسی فکر میں میں کیا دیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا۔بیداری تھی میری آنکھیں کھلی تھیں میں درو دیوار کو دیکھتا تھا کمرے کی چیزیں نظر آ رہی تھیں۔میں نے اسی حالت میں اللہ تعالی کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہاء۔اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا جس کے معا بعد مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا اس کا دوسرا حصہ اس