رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 22
22 وقت میں نے نہیں سنایا تھا۔اب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معا میری زبان سے نکلا اب میری امت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی " میری امت کوئی نہیں۔تم میرے بھائی ہو۔مگر اسی نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود کو ہے یہ فقرے نکلے۔جس کام کو مسیح موعود نے جاری کیا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے۔الفضل 21 - مارچ 1914 ء صفحہ 2 3۔نیز دیکھیں۔الفضل 8 - مارچ 1914ء صفحہ 15 و 17 جنوری 1935ء صفحہ 8 10 و 17 ستمبر 1937ء صفحہ 13 14 و 10 مئی 1944ء صفحہ 32 اور تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ دوم صفحه 213 31 +1911 1910 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر انچیف مقرر فرمایا ہے اور میں سراو مور کرے سابق کمانڈر انچیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے چھت بھٹی (ہم چھت پر تھے ) اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول اس میں سے بر آمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سر او مور کرے کمانڈر انچیف افواج ہند ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچھر سے مجھے یہ چیز اسی طرح ملی تھی۔افواج کی کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری ہے۔۔۔اس رویا میں حضرت مسیح موعود کولارڈ کچنر کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اول کو سر او مور کرے کے نام سے۔اور جب ہم ان دونوں افسروں کے عہدوں کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچھر ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر او مور کرے کمانڈر مقرر ہوئے تھے مگر یہ بات تو پچھلی تھی۔عجیب بات یہ ہے کہ جس سال اور جس مہینہ میں سراو مور کرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اسی سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ 1914 ء میں حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرمایا۔