رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 240

240 ہوں کوئی لمبا سفر معلوم نہیں ہو تا بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ایک مکان کی طرف جارہا ہوں وہاں مجھے ایک نہایت خوبصورت اور وجیہہ نوجوان کھڑا ہوا نظر آیا اس مکان کا پھاٹک کھلا ہوا ہے اور اندر کمرہ میں روشنی دکھائی دیتی ہے وہ کمرہ ایسا ہی ہے جیسے محلات کی ڈیوڑھیاں ہوتی ہیں اس ڈیوڑھی کے اندر مجھے ایک گیارہ بارہ سال کا لڑکا دکھائی دیا ہے جب اس مکان کے قریب پہنچا اور دربان نے مجھے دیکھا تو اس نے نہایت بلند آواز سے جیسے وہ بڑا حیر الصوت ہوتا ہے اور اس کی آواز میں بڑی شوکت اور عظمت پائی جاتی ہے اتنی بلند آواز سے کہ یوں معلوم ہوتا ہے اس کی آواز تمام دنیا میں گونج گئی ہے اور پھر ساتھ ہی بڑی سریلی اور نہایت دلکش آواز سے اس نے کیا مہر آپا کو بلاؤ" جب اس نے یہ الفاظ کہے تو وہ لڑکا یکمدم اندر کی طرف دوڑ پڑا لیکن معا بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس رویا میں عجیب قسم کا جوڑ ہے مہر کے معنے محبت کے بھی ہوتے ہیں اور مہر سورج کو بھی کہتے ہیں شاید محبت اور انوار الہی کے امتزاج کا کوئی جلوہ ظاہر ہونے والا ہو یا کوئی اور تعبیر ہو۔وَالله اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔الفضل 8 جولائی 1944ء صفحہ 3 306 جون 1944ء فرمایا : کچھ دن ہوئے ہیں میں نے دو دفعہ رویا دیکھیں۔مگروہ دونوں بھول گئیں صرف ایک ایک لفظ ان دونوں میں سے یا د رہا ہے ایک میں بار بار بیالیس " کا لفظ آتا تھا دوسری میں بار بار اڑتالیس " کا لفظ آتا تھا میں نے اس کا کسی سے ذکر نہ کیا کیونکہ میں سمجھتا تھا جب خواب کے باقی حصے یاد نہیں رہے تو ان الفاظ کے بیان کرنے کا کیا فائدہ ہے مگر آج یکدم میری توجہ اس طرف پھری کہ ”بیالیس “ اور ”اڑتالیس " دونوں لفظوں کا یا د رہنا بھی بعض مضامین کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے۔الفضل 8۔جولائی 1944ء صفحہ 2 نیز دیکھیں۔الفضل 4۔فروری 1948ء صفحہ 4 307 24۔جون 1944ء فرمایا : گرمی کی شدت کی وجہ سے رات کو میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے دو چار گھونٹ پانی کے دو۔وہ پانی لانے کے لئے اٹھیں تو یکدم مجھ پر غنودگی کی حالت طاری