رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 241

241 ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔اِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِبَكة قرآن کریم میں تو اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ ال عمران : 69) کے الفاظ آتے ہیں مگر مجھ پر یہ الہام کسی قدر فرق کے ساتھ ان الفاظ میں نازل ہوا کہ اِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِمَكَّةَ يه الهام ابھی جاری ہی تھا کہ یکدم حالت بدل گئی اور میں نے دیکھا۔میں جاگتے ہوئے اس کے ساتھ ہی کہہ رہا ہوں لِلَّذِينَ آمَنُوا اس لحاظ سے کہ الہام ابھی جاری ہی تھا کہ لِلَّذِينَ آمَنُوا کے الفاظ جاگتے ہوئے میں نے کہے۔ان الفاظ کو بھی کلام الہی کا حصہ ہی سمجھنا چاہئے مگر اس فرق کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے لفظی الہام اور قلبی الہام کا مجھے ایک ایسا عجیب نمونہ دکھایا کہ حیرت آتی ہے ان دونوں میں ویسا ہی نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے جیسے گاڑی ایک پٹڑی پر چلتے چلتے یکدم اس کو چھوڑ کر دوسری پٹری پر چلنے لگ جائے مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ کلام الہی کی وہ حالت جب وہ زبان پر نازل ہوتا ہے اور وہ حالت جب وہ قلب پر نازل ہو تا ہے آپس میں بہت بڑا فرق رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔بهر حال اس الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ صرف جماعت احمدیہ کی کامیابی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ یہ الہی کلام بشارت کا ایک عظیم الشان پیغام اپنے اندر رکھتا اور دنیا میں احمدیت کی ترقی کی خبر دیتا ہے۔الفضل 8 جولائی 1944 ء صفحہ 2 جون 1944ء 308 فرمایا : میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ مولوی عبد اللہ بابی قادیان میں آیا ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے آپ بہاء اللہ کو کیوں نہیں مانتے میں اسے کہتا ہوں میں بہاء اللہ کو اس لئے نہیں مانتا کہ قرآن کریم کے متعلق تم بھی سمجھتے ہو کہ وہ کچی کتاب ہے اور میں بھی اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ قرآن کریم کی سچائی میں کوئی شبہ نہیں اور جب ہم دونوں قرآن کریم کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں تو کسی اور مدعی کی طرف جو قرآن کریم سے ہمیں دور لے جانا چا ہے اسی صورت میں ہم توجہ کر سکتے ہیں جب قرآن کریم کی غلطیاں کوئی شخص ہم پر ثابت کر دے اور بتائے کہ اس کی فلاں فلاں بات قابل عمل نہیں یا فلاں فلاں سچائیاں ایسی ہیں جو قرآن کریم میں موجود نہیں ہیں مگر جب کہ قرآن کریم میں کوئی بات ایسی نہیں جو غلط ہو اور کوئی سچائی ایسی نہیں جو قرآن کریم میں موجود نہ ہو تو اس کے بعد یہ سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن کریم کو چھوڑ