رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 238

238 چھت ہے۔جس قسم کی چھت اس دنیا میں تو آج تک بنائی نہیں گئی۔ہاں یاد آیا کہ اس مکان میں جانے سے پہلے مجھے سید ولی اللہ شاہ صاحب ملے ہیں لیکن سلام کر کے بغیر کوئی بات کرنے کے چلے گئے ہیں میں حیران ہو تا ہوں کہ ملے بھی ہیں اور بغیر بات کرنے کے چلے گئے ہیں اس پر کسی نے کہا کہ ان کے ساتھ مستورات ہیں غالبا ان کو چھوڑنے گئے ہیں چھوڑ آئیں گے تو پھر ملیں گے۔جس وسیع دالان کا میں نے ذکر کیا ہے جب وہاں پہنچا ہوں تو کسی نے کہا ہے کہ اس مکان کے مالک کا ایک شریک ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح اپنے حصہ مکان کے ساتھ جو دوسری طرف تھوڑے فاصلہ پر ہے اس مکان پر بھی قبضہ کرے جس میں میں اس وقت ٹھہرا ہوں اس پر میں دوسرے مکان کی طرف چل پڑا ہوں جب اس کی حد تک پہنچا تو وہ شخص اپنی حد سے گزر کر میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور باتیں کرنے لگ گیا۔اس کے ایک پہلو میں میں ہوں اور دوسرے پہلو پر ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ہیں دو چار باتیں کرنے کے بعد اس نے کہا کہ مجھے شدید کھجلی ہے اور اس کے ساتھ ہی مجھے اس کا جسم پھنسیوں سے بھرا ہوا نظر آیا اس پر میں یہ خیال کر کے کہ مجھے اس سے کھیلی نہ لگ جائے وہاں سے گھر کی طرف جلد جلد قدم اٹھاتا ہوا چل پڑا۔اس وقت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ جس مکان میں میں ٹھہرا ہوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اسی میں پناہ لی تھی جب میں اس طرف جارہا تھا مجھے سید ولی اللہ شاہ صاحب پھر ملے اور انہوں نے کہا کہ میں جب آیا تھا میرے ساتھ میری بیوی کے علاوہ خاندان کی کچھ مستورات بھی تھیں اور میں ان کو چھوڑنے چلا گیا پھر انہوں نے بعض کے نام لئے کہ فلاں فلاں مستورات تھیں اور ایک نام انہوں نے غلام مرزا لیا۔میں سمجھتا ہوں یہ ان کی کسی قریبی عزیزہ کا نام ہے۔میں پہلے حیران ہوا کہ یہ کیسا نام ہے مگر معا خواب میں میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ نام شہزادیوں کا ہے اور مغل بادشاہوں کے زمانہ میں بعض شہزادیوں کا یہ نام ہوا کرتا تھا گو جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے ایسا نام میں نے کبھی نہیں سنا) اس پر میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 20۔جون 1944ء صفحہ 1 فرمایا : اصل میں انہوں نے بشری غلام مرزا کہا تھا مگر خواب بیان کرتے وقت میں نے بشری کا لفظ اڑا دیا تا لوگوں کو ابھی میرے ارادہ کا علم نہ ہو ( تعجب ہے بعض لوگوں کو پھر بھی علم ہو گیا