رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 229
229 منہ میں لگام بھی نہیں ان رستوں پر چلنا شروع ہو گئی ہے مجھے پتہ نہیں کہ وہ کس طرح میری مرضی کے تابع ہو گئی بہر حال میں اس وقت خواب میں کہتا ہوں ایک تو یہ لوگ شتر مرغ میری سواری کے لئے لے آئے ہیں اور پھر اس کے منہ میں لگام بھی نہیں یہ تو مجھے گرا دے گی۔جو نہی مجھے یہ خیال آتا ہے مجھے ایک جگہ نظر آتی ہے جو پہاڑی شکل کی ہے اونچی نیچی جگہ ہے پاس پتھر بھی پڑے ہیں اور گڑھے بھی نظر آرہے ہیں میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ اب میں ضرور گر جاؤں گا رستہ بھی بہت تنگ ہے ایک دو فٹ سے زیادہ نہیں پس میں ڈرتا ہوں کہ اب تو شتر مرغ پر سے گر جاؤں گا مگر اس جگہ پہنچ کر اس شتر مرغ نے ایسی عمدگی سے اپنے پیر رکھے ہیں کہ خواب میں اس کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ایک طرف اونچی ہے دوسری طرف نیچی ہے مگر وہ اس طرح برابر پیر رکھتی ہے کہ میں اس پر سیدھا بیٹھا رہتا ہوں اور نشیب و فراز سے مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی بلکہ جب بھی نشیب و فراز آتا ہے وہ اس طرح اپنے پیر سمیٹتی اور اس عمدگی سے ان اونچی نیچی جگہوں سے گزر جاتی ہے کہ میں اس کی پیٹھ پر برابر بیٹھا رہتا ہوں۔چلتے چلتے وہ ایک جگہ پہنچتی ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ سرحد آگئی پھر دوسری جگہ پہنچتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دوسری سرحد آگئی۔اسی طرح ایک دفعہ راہ میں ایک درخت آجاتا ہے جس کی ٹہنیاں زمین میں لگی ہوئی ہیں اور میں سمجھتا ہوں اب تو میں ضرور گر جاؤں گا مگر میں نے دیکھا گو اس کی شاخیں میں نے بھی اٹھائی ہیں مگر وہ مادہ شتر مریخ اس پھرتی اور عمدگی سے اپنی لاتیں نیچے کر کے مجھے وہاں سے لے گئی کہ مجھے ذرا بھی تکلیف نہیں ہوئی۔پھر ایک کمرہ آجاتا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دنیا کا ایک حصہ ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے دالان ہو تا ہے اسی کے دروازہ کے سامنے پہنچ کر وہ مادہ شتر مرغ میری طرف منہ کر کے کہتی ہے میں نہیں جاتی اندر اندر مرد بیٹھا ہے یہ کہہ کر وہ پھر لوٹی اور پھر اسی طرح نشیب و فراز والی جگہیں آنی شروع ہوئیں مگروہ اس عمدگی سے اپنے پاؤں رکھتی ہے کہ اونچی نیچی جگہ میرے لئے برابر رہتی ہے اور میں اس پر سیدھا بیٹھا رہتا ہوں پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسی احاطہ میں اس کے کنارہ پر پہنچ گیا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اب ہم یہاں سے باہر نکل جائیں گے کہ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ سفر سے مراد زندگی کا سفر ہے اور وہ مختلف سڑکیں اور