رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 230

230 میدان اور وادیاں جو مجھے دکھائی گئیں ان سے مراد دنیا ہے اور خچر کے معنے اعزاز کے ہیں۔میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ اس شتر مرغ نے مجھے ہر جگہ بچایا وہ اعلیٰ درجہ کی خوبصورت ہے اور ایسی احتیاط سے مجھے لے گئی ہے کہ جگہ کی اونچ نیچ اور نشیب و فراز کا مجھے احساس تک نہیں ہوا اور میں اس پر سیدھا بیٹھا رہا ہوں پس شتر مرغ کا خوبصورت ہوتا۔اس کا اور نچ نچ میں احتیاط سے لے جانا اور کوشش کرنا کہ سوار کو تکلیف نہ ہو یہ باتیں بتاتی ہیں کہ یہ خواب بری نہیں۔اچھی ہے شتر مرغ کا یہ کہنا کہ میں نہیں جاتی اندر اندر مرد بیٹھا ہے یہ بھی ایک خبر کا پہلو ہے پس میں سمجھتا ہوں کہ بہر حال یہ ایک اچھی خواب ہے۔پھر ایک اور بات ہے کہ اس خواب کے دو حصے ہیں پہلے حصہ میں میں نے خچر دیکھی ہے جسے عربی میں بغلة کہتے ہیں اور دوسرے حصہ میں میں نے شتر مرغ دیکھا ہے جسے نعامة کہتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ تعبیر ناموں میں خچر اور نعامہ دونوں کی ایک ہی تعبیر لکھی ہے۔خواب میں مجھے خچر اور شتر مرغ ایک تسلسل میں دکھائے گئے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ ان دونوں نگاروں کی ایک تعبیر ہے اور معترین نے بھی ٹیچر اور نعامہ کی ایک ہی تعبیر لکھی ہے۔فرمایا : میں نے جو مچھر دیکھی ہے وہ کمیت سے رنگ کی ہے وہ دوست جو مجھے اس کا سر دکھا کر کہتے ہیں کہ کیا اس کو آپ کی سواری کے لئے سدھایا جائے میں ان کا نام بھی لے دیتا ہوں میں نے مولوی ابو العطاء صاحب کو دیکھا ہے اب اگر ان کا نام ابو العطاء سمجھا جائے جو ان کی کنیت ہے تو اس لحاظ سے رویا میں ابو العطاء سے مراد خدا ہو گا اور اگر ان کا وہ نام لیا جائے جو ان کے ماں باپ نے رکھا ہے یعنی الله و تا تو اس کے معنے ہوں گے۔خدا کی دین اور اس کی عطاء الفضل کیم جون 1944ء صفحہ 371 فرمایا : معترین نے لکھا ہے کہ مچھر کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ ایسی عورت سے شادی ہو جس کے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی۔اور شتر مرغ پر سواری کی تعبیر دیکھی تو وہاں لکھا تھا کہ ایسی عورت سے شادی ہو جس سے اولاد نہیں ہو سکتی ٹیچر ایک ایسا جانور ہے جس سے بالطبع کچھ نفرت سی پیدا ہوتی ہے اور اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس کی بجائے شتر مرغ دکھا دیا جس کے لئے عربی میں لفظ نعامہ ہے جو نعمت سے نکلا ہے جس سے اس طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اس خواب کے مورد کی اصلاح فرما کر اسے نعمت و رحمت کا موجب بنا دے گا۔الفضل حکیم اگست