رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 228

228 سامنے آئی تو میں نہیں کہہ سکتا ان کی رائے بدل گئی تھی یا اس سواری کی جنس بدل گئی بہر حال اس وقت میرے سامنے جو سواری آتی ہے وہ فیچر کی بجائے شتر مرغ ہے مگر بہت ہی خوبصورت جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براق کی لوگ تعریف کرتے ہیں اسی طرح وہ نہایت خوبصورت اور اعلیٰ درجہ کا شتر مرغ ہے اس کی گردن قاز کی گردن کی طرح ہے اور اس کے پروں میں ایسی چمک اور خوبصورتی ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے رنگ ایسا ہے جیسے سیاہی مائل رمادی رنگ ہو یا گہرے رنگ کے فاختئی رنگ میں کچھ کبوتر کا رنگ ملا دیا جائے۔قد اس کا بظاہر بہت اونچا بھی نہیں اور نیچا بھی نہیں مگر رویا میں مجھے کوئی حیرت نہیں ہوتی کہ انہوں نے یہ کیا کیا که شتر مرغ میری سواری کے لئے لے آئے ہیں وہ نر شتر مرغ نہیں بلکہ مادہ شتر مرغ معلوم ہوتی ہے بہر حال میں اس کی پیٹھ پر بیٹھ گیا اس وقت مجھے خیال آیا کہ کہیں یہ اتنا چھوٹا تو نہیں کہ میرے پاؤں زمین سے لگ جائیں مگر میں نے دیکھا میرے پاؤں زمین سے نہیں لگتے جب میں اس کی پیٹھ پر بیٹھ گیا تو مجھے خیال آیا کہ اس کے منہ میں تو لگام نہیں چونکہ گھوڑے کے منہ میں لگام ہوتی ہے۔اس لئے اس کے متعلق بھی مجھے لگام کا خیال آیا کہ میں اس پر سوار تو ہو گیا ہوں مگر اس کے منہ میں لگام نہیں مگر مجھے یہ بات ان سے کہنے میں حیا اور شرم مانع ہوئی۔اور میں دل میں کہتا ہوں اب میں ان سے کیا کہوں دوستوں نے جب مجھے بٹھا دیا ہے تو میں بیٹھ جاتا ہوں جب میں اس پر بیٹھ گیا تو شتر مرغ آپ ہی آپ چل پڑایا چونکہ وہ مادہ شتر مرغ ہے اس لئے یوں کہہ لو کہ وہ چل پڑی جس طرف وہ مادہ شتر مرغ جارہی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی دنیا ہے مگر بظاہر ایک شہر ہے جس میں مختلف سڑکیں ہیں، وادیاں ہیں باغ ہیں ، قلعے ہیں ، مکان ہیں ، صحن ہیں اور ان معنوں میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اس قسم کی جگہیں بنی ہوئی ہیں جیسے جغرافیہ سکھانے کے لئے سکولوں میں پہاڑوں وغیرہ کے نقشے کھینچے جاتے ہیں وہاں بھی کہیں باغ ہیں کہیں روشیں ہیں کہیں پہاڑ ہیں کہیں میدان۔کہیں سڑکیں ہیں غرض سب چیزیں ہیں مگروہ ہیں اتنی چھوٹی چھوٹی کہ چند گز میں ہی تمام چیزیں آگئی ہیں اس میں رستے بھی ہیں اور ایسے گڑھے اور پک ڈنڈیاں وغیرہ بھی ہیں جیسے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں والے علاقہ میں ہوتی ہیں مثلاً جہلم میں ہی پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے کہیں غاریں ہیں کہیں پک ڈنڈیاں ہیں۔کہیں گڑھے ہیں اسی طرح وہاں صاف راستہ نہیں لیکن شتر مرغ بغیر میرے کچھ کے کے ایسی حالت میں کہ اس کے