رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 227
227 سامنے آتے ہیں لیکن ام طاہر کے متعلق بعض دفعہ خواہش بھی ہوئی ہے کہ انہیں دیکھوں اور توجہ بھی کی مگران کی شکل نظر نہیں آئی۔الفضل یکم جون 1644ء صفحہ 1 26۔مئی 1944ء 295 فرمایا : آج رات میں نے ایک عجیب رویا دیکھا جو اپنے تجربہ کے لحاظ سے بالکل نرالا ہے۔میں نے دیکھا کہ مجھے کوئی سفر در پیش ہے یہ نہیں کہ جیسے خاص طور پر کسی کو کوئی کام پیش آجائے تو وہ سفر کے لئے چل پڑتا ہے بلکہ میں رویا میں یوں سمجھتا ہوں کہ میرے سامنے کوئی سفر ہے اور اس کے لئے میں سوچتا ہوں کہ کس رنگ میں کروں۔ہماری جماعت کے ایک دوست اس سفر کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سواری میرے سامنے پیش کرتے ہیں۔خواب کے نظارے بھی عجیب ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ دوست مجھے کوئی جانور دکھائیں مجھے ایک سرد کھاتے ہیں جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ خچر کا سر ہے۔جاگتے ہوئے تو انسان ایسی حالت میں ہنس پڑے گا کہ ایک جانور کا سر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی سواری کے لئے ہے مگر رویا میں میں اسے عجیب بات نہیں سمجھتاوہ ٹیچر کا سر مجھے دکھا کر کہتے ہیں۔میں اس کو آپ کے سفر کے لئے سد ھاؤں میں کہتا ہوں آپ ہیٹک سدھائیں۔پھر میں نے ان کے ہاتھ میں ایک لگام بھی پکڑی ہوئی دیکھی ہے چنانچہ میرے کہنے پر وہ اس کو سدھاتے ہیں مگر پھر بھی وہ مجھے اس کا سر ہی دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جانور کیسا اچھا سیکھ رہا ہے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے وہ اس کو سواری کے لئے سیدھا رہے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ کس محمدگی سے سواری کی تربیت حاصل کر رہا ہے اس کے بعد وہ منہ سے تو کچھ نہیں کہتے مگر دوبارہ اس کا سر ہی مجھے دکھاتے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ مچھر سواری کے لئے نہایت عمدگی سے سدھائی جاچکی ہے۔یہ نظارہ جیسا کہ خواب کا طریق ہے منٹوں میں گذر جاتا ہے بجائے اس کے کہ دنوں یا مہینوں میں ایسا ہو اس کے مداس مچھر پر سواری کرنے اور اپنے سفر کو پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں۔بہت سی عورتیں اور مرد اور بچے میرے ساتھ ہیں مگر وہ سب میرے پیچھے ہیں اور آگے آگے میں ہوں۔چلتے چلتے وہ مجھے سواری کے قریب کھڑا کر دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں اس پر سوار ہو جائیے جب وہ سواری میرے