رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 19
19 رہے ہیں مگر آپ اس حصہ مسجد میں کھڑے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنوایا تھا اس حصہ مسجد میں کھڑے نہیں ہوئے جو بعد میں جماعت کے چندہ سے بنوایا گیا تھا۔آپ تقریر مسئلہ خلافت پر فرما رہے ہیں اور میں آپ کے دائیں طرف بیٹھا ہوں۔آپ کی تقریر کے دوران میں خواب میں ہی مجھے رقت آگئی اور بعد میں کھڑے ہو کر میں نے بھی تقریر کی جس کا خلاصہ قریباً اس رنگ کا تھا کہ آپ پر ان لوگوں نے اعتراض کر کے آپ کو سخت دکھ دیا ہے مگر آپ یقین رکھیں کہ ہم نے آپ کی بچے دل سے بیعت کی ہوئی ہے اور ہم آپ کے ہمیشہ وفادار رہیں گے۔پھر خواب میں ہی مجھے انصار کا وہ واقعہ یاد آگیا جب ان میں سے ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ یا رسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روند تا ہوا نہ گزرے۔اسی رنگ میں میں بھی کہتا ہوں کہ ہم آپ کے وفادار ہیں اور لوگ خواہ کتنی بھی مخالفت کریں ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے در پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ کے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہم پر حملہ کر کے ہمیں ہلاک نہ کرئے۔قریباً اسی قسم کا مضمون تھا جو رویا میں میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب حضرت خلیفہ اول تقریر کرنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے تو اس وقت میرے ذہن سے یہ رویا بالکل نکل گیا اور بجائے دائیں طرف بیٹھنے کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔حضرت خلیفہ اول نے جب مجھے اپنے بائیں طرف بیٹھے دیکھا تو فرمایا۔میرے دائیں طرف آ بیٹھو پھر خود ہی فرمانے لگے۔تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا۔میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں آپ نے فرمایا۔تمہیں اپنی خواب یاد نہیں۔تم نے تو خود ہی خواب میں اپنے آپ کو میرے دائیں طرف دیکھا تھا۔الفضل 21- اپریل 1940ء صفحہ 4-5 خلافت راشدہ صفحہ 92-93 ( تقریر جلسہ سالانہ 29 دسمبر 1939ء) خلافت احمدیہ کے مخالفین کی تحریک صفحہ 15-18 اور القول الفصل صفحه 52 ( مختصراً) 26 $1909 فرمایا : مجھے بھی خدا تعالیٰ نے پہلے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر