رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 18
18 جلسہ میں باقی تھے ان میں برابر یہ دعا کرتا رہا لیکن مجھے کچھ نہ بتایا گیا حتی کہ وہ رات آگئی جس دن صبح کو جلسہ تھا جس میں یہ سوالات و پیشن ہونے تھے اور اس رات میرا کرب بڑھ گیا اور میرا دل دھڑکنے لگا اور میں گھبرا گیا کہ اب میں کیا کروں۔اس رات میں بہت ہی گڑ گڑایا اور عرض کیا کہ الہی صبح کو یہ معاملہ پیش ہو گا۔حضور مجھے بتائیں کہ میں کس طرف ہوں۔اس وقت تک تو میں خلافت کو حق سمجھتا ہوں لیکن مجھے حضور کی رضا مطلوب ہے کسی اپنے اعتقاد پر اصرار نہیں۔میں حضور سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں تا میرے دل کو تسلی ہو۔پس صبح کے وقت میری زبان پر یہ الفاظ جو قرآن کریم کی ایک آیت ہے جاری کئے گئے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78) کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پروا ہی کیا کرتا ہے۔اس کے بعد مجھے تسلی ہو گئی اور میں نے خیال کہ میں حق پر ہوں کیونکہ لفظ "قُلُ" نے جتادیا کہ میرا خیال درست ہے تبھی تو مجھے حکم ہوا کہ میں لوگوں کو حکم الہی سناؤں اور اگر میرا عقیدہ غلط ہو تا تو یہ الفاظ ہوتے مَا يَعْبُؤُاكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ برکات خلافت صفحه 40-41 ( تقریر جلسہ سالانہ 27 - دسمبر 1914ء) مجھے کہا گیا کہ جو تمہارے خلاف خیال رکھتے ہیں ان کو کہہ دو کہ یورپ کی تقلید میں کامیابی اور فلاح نہیں یہ دینی مسئلہ ہے اس لئے جس طرح خدا کے نبیوں کے خلیفے ہوتے رہے ہیں اسی طرح یہاں بھی خلافت ہی ہوگی لیکن اگر وہ باز نہیں آئیں گے تو خدا کو ان کی کوئی پرواہ نہیں۔کامیابی اسی میں ہے کہ وہ خدا کے حضور گر جائیں اور زاری کریں اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو خدا کا عذاب موجود ہے۔(الفضل 28 - ستمبر 1918ء صفحہ 10۔نیز دیکھیں۔اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات صفحہ 21-22 25 +1909 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ مسجد میں جلسہ ہو رہا ہے اور حضرت خلیفہ اول تقریر فرما حضرت خلیفہ اول نے جماعت کے لوگوں سے حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے پیش کردہ سوالات کے جوابات طلب فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ 31 جنوری 1908ء کو مختلف جماعتوں کے قائم مقام قادیان میں جمع ہو جاویں تا سب سے مشورہ کر لیا جاوے (ناقل)