رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 17

17 ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں۔وہ نہیں جلتیں۔پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں۔میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھا گا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے انہوں نے آگ لگادی تھی۔میں اس آگ میں کود پڑا اور اسے میں نے بجھا دیا لیکن تین کڑیوں کے سرے جل گئے۔یہ خواب میں نے اسی دن دوپہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ کو سنائی جو سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہو گئی۔اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو دیئے ہیں جن سے ایک شور پڑ گیا ہے اس کے بعد میں نے حضرت خلیفتہ المسیح کو یہ رویا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رقعہ پڑھ کر فرمایا خواب پوری ہو گئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو۔جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔یہ رویا حرف بحرف پوری ہوئی اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نفاق ظاہر ہو گیا اور ایک خطر ناک آگ لگنے والی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے فضل سے بجھا دی ہاں کچھ کمڑیوں کے سرے جل گئے اور ان کے اندر ہی اندر یہ آگ دہکتی رہی۔برکات خلافت صفحہ 40 39 ( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1914ء)۔نیز دیکھیں۔الفضل 21 اپریل 1940 ء صفحہ 34 اور خلافت احمدیہ کے مخالفین کی تحریک صفحہ 10 12 ( تقریر 21 - شہادت 1319 عش) اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات صفحہ 16 تا صفحہ 18 - خلافت را شده ( تقریر جلسہ سالانہ 29 - دسمبر 1939ء صفحہ 88 صفحہ 90 24 +1909 فرمایا : جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو کو مجھے وہ رویا بھی ہو چکی تھی جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی موجود ہے اور وہ دوسری رویا بھی دیکھ چکا تھا جس میں میر محمد اسحاق صاحب کے سوالات سے منافقوں کے سر جلنے کا پتہ دیا گیا تھا لیکن پھر بھی طبیعت پر ایک بوجھ تھا اور میں چاہتا تھا کہ زیادہ وضاحت سے مجھے اس مسئلہ کی نسبت کچھ بتایا جائے اور میں نے اپنے رب کے حضور میں بار بار عرض کیا کہ الہی مجھے حق کا پتہ دیا جائے اور صداقت مجھ پر کھول دی جائے اور جو بات سچ ہے وہ مجھے بتادی جائے کیونکہ مجھے کسی پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ صرف حضور کی رضا حاصل کرنے کا شوق ہے۔جس قدر دن