رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 202
202 نے سمجھا کہ آئندہ پانچ سال کے اندر کوئی اہم واقعہ اسلام کے متعلق پیش آنے والا ہے اور گویا مسلمانوں کو اس آفت سے بچانے کے لئے میں بطور بوائے ہوں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب تک وہ واقعہ پیش نہ آئے مجھے زندہ رکھا جائے گا۔الفضل 4 فروری 1948ء صفحہ 1 فرمایا: اس اہم امر کو مصلح موعود کے انکشاف کے ساتھ باندھا گیا تھا اور پانچ سال یا اس کے ادھرادھر قریب زمانہ میں اس کا ظہور ہو گا یا ظہور کی علامات پیدا ہو جائیں۔سردرد کی وجہ سے چونکہ چند دن میں برومائیڈ کھاتا رہا ہوں اس لئے مجھے سخت گہری نیند آتی ہے اسی وجہ سے وہ بات مجھے بھول گئی بہر حال اتنا یا د رہا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور بات اس موجودہ انکشاف کے ساتھ مقدر ہے اور وہ ایسی ہی ہے جیسے لڑکے پتنگ اڑاتے ہیں تو پتنگ کے پیچھے ایک دھجی بندھی ہوئی ہوتی ہے اسی طرح ایک اہم واقعہ اس انکشاف کے ساتھ ازل سے خدا تعالیٰ نے باندھا ہوا ہے اور وہ واقعہ پانچ سال کے قریب یا اس کے بعد ہو گا رویا میں میں اپنی عمر کا بھی کچھ تعلق اس واقعہ سے وابستہ سمجھتا ہوں۔یہ نہیں کہہ سکتا کہ مبشر رنگ میں یا منذر رنگ میں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض لوگوں کی منذر خوابوں کی بناء پر انکشاف کی دعا کی گئی تھی پس ممکن ہے کہ یہ بتایا گیا ہو کہ پانچ سال تک یہ واقعہ نہ ہو گا یا ممکن ہے کسی اور رنگ میں اس کا اس سے تعلق ہو بہر حال یہ حصہ وقت پر جا کر کھلے گا۔الفضل 16۔اپریل 1944ء صفحہ 2 266 مارچ 1944ء فرمایا : رویا میں ایک مضمون بار بار مجھ پر نازل ہوا وہ پورا مضمون تو مجھے یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ اس میں بار بار بیالس اور اڑتالیس کا لفظ آتا تھا۔بیالیس کی تعبیر تو میری سمجھ میں نہیں آئی شاید بیالس سے مراد 1942ء ہی ہو جیسا کہ میں نے رویا کی تعبیر کرتے وقت خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کیونکہ 1942ء میں جمعوں کے متواتر ایسے اجتماع ہوئے جو اسلام کی ترقی کی طرف توجہ دلاتے تھے (خطبہ کے بعد ایک دوست نے خط لکھا کہ شاید 1942ء سے مراد اوپر کی رؤیا کی طرف توجہ دلانا مقصود ہو اور بتایا گیا ہو کہ بیالس میں پانچ سال جمع کئے جائیں تو یہ واقعہ ظاہر ہو گا یعنی 1947ء میں اور 1948 ء میں خدا تعالیٰ اس تباہی سے بچنے کے سامان پیدا کرے گا) بہر حال اڑتالیس کا لفظ پنج سالہ زمانہ کی طرف توجہ دلا تا تھا یہ رویا میں نے مارچ 1944 ء میں دیکھی تھی