رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 203
203 اور یہ پنج سالہ زمانہ مارچ 1949ء میں ختم ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے۔رؤیا کی تعبیر میں اگر پورا سال ہو تو اس کی کسر بھی ساتھ ہی شامل ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ پانچ سال کی کسر بھی یعنی چھ ماہ اور ملا کر یہ پنج سالہ زمانہ اکتوبر 1949ء تک ہو بہر حال زیادہ سے زیادہ مدت 1949ء کے آخر تک ہے اور اگر پورے پانچ سال ہوں تو یہ زمانہ مارچ 1949ء میں ختم ہوتا ہے گویا 25 مارچ 1948ء کے بعد پانچواں سال شروع ہو جائے گا۔الفضل 4۔فروری 1948ء صفحہ 4 مارچ 1944ء 267 فرمایا : ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ جیسے فوجی سپاہیوں کی قطار ہوتی ہے اسی طرح بہت سے لوگ ایک قطار میں کھڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سب کو پریڈ کرا رہا ہے۔میں بھی اسی جگہ ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک لکیر کھینچی ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ اس لکیر سے آگے گزر جائیں وہ جنتی ہوں گے۔میں بھی آگے بڑھتے بڑھتے اس لکیر پر سے گذر گیا جب میں وہاں سے گزرا تو یکدم میرے منہ سے نکلا کہ میں بھی یہاں پہنچ گیا اور یہ کہتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 10 مئی 1944 ء صفحہ 2 268 30 مارچ 1944ء فرمایا : میں نے پرسوں ایک عجیب رویا دیکھا جو جماعت کے متعلق ہے وہ بظا ہر منذ ر بھی ہے اور مبشر بھی معلوم ہوتی ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک جگہ ہماری جماعت کھڑی ہے مگر تھوڑے سے افراد ہیں اور میں انہی کو تمام جماعت کا قائم مقام سمجھتا ہوں رویا میں بعض دفعہ ایک چھوٹا سا نظارہ دکھایا جاتا ہے اور مراد اس سے بڑی جماعت ہوتی ہے اور بعض دفعہ بڑا نظارہ دکھایا جاتا ہے مگر مراد اس سے کوئی چھوٹا واقعہ ہوتا ہے رویا میں میں نے اپنی جماعت کے جو آدمی دیکھے وہ سات آٹھ تھے زیادہ نہیں۔میں نے دیکھا کہ ان سات آٹھ آدمیوں نے ایک صف بنائی ہوئی ہے اور میں وہاں اس طرح کھڑا ہوں جس طرح انہیں پریڈ کرا رہا ہوں مگر یہ پریڈ اس طرح نہیں ہو رہی جس طرح فوجی پریڈ ہوتی ہے کہ پریڈ کرانے والا لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کرتا چلا جاتا