رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 201

201 کی بیٹی آگرہ سے مل گئی اور قادیان پہنچ گئی۔الفضل 21۔اپریل 1944 ء صفحہ 1 مارچ 1944ء 265 فرمایا : مارچ 1944ء میں میں نے ایک رؤیا دیکھا جبکہ بعض لوگ میرے متعلق ایسی خبریں شائع کر رہے تھے اور کچھ احمد کی دوست بھی نہ معلوم کن اثرات کے ماتحت یہ خواہیں دیکھ رہے تھے کہ میری زندگی کے دن ختم ہو رہے ہیں۔ان حالات کی وجہ سے جب میں نے اللہ تعالٰی کے حضور دعا کی تو مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک سمند رہے اور اس میں کچھ بوائے (Buoy) ہیں بوائے انگریزی کا لفظ ہے اور چونکہ یہ صنعتی شئے ہے اس لئے اردو زبان میں اس کا کوئی ترجمہ نہیں یہ بوائے ڈھول سے ہوتے ہیں جنہیں آہنی زنجیروں سے سمندر میں چٹانوں کے ساتھ باندھا ہوتا ہے اور وہ سمندر میں تیرتے پھرتے ہیں اور جو جہاز وہاں سے گزرتے ہیں ان کو دیکھ کر جہاز راں یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ اس بوائے سے چٹان قریب ہے اور اس سے بیچ کر چلنا چاہئے اور اگر سمندر کے اندر چٹانوں کا نشان بتانے کے لئے بوائے نہ لگے ہوں اور جہاز آجائے تو جہاز کے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے بعض جہاز ایسے ہوتے ہیں جو پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ فٹ پانی کے نیچے ہوتے ہیں بوجہ اپنے سائز کے یا بوجہ بوجھ کے یا بعض بوجہ اپنی ساخت کے۔اور اگر چٹان پانی کی سطح سے پندرہ یا بیس فٹ نیچے ہو تو ایسے جہاز چٹان کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جاتے ہیں پس جہاز کو ہو شیار کرنے کے لئے اور اسے اطلاع دینے کے لئے اس جگہ چٹان ہے متمدن حکومتیں اپنے اپنے سمندری علاقوں میں لوہے کے بنے ہوئے بوائے زنجیروں کے ذریعہ چٹانوں کے ساتھ باندھ دیتی ہیں ان کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور وہ ہر وقت پانی کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں اور ان کو دیکھ کر جہاز والے یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں خطرہ ہے اور وہ اس جگہ سے جہاز کو بچا کر لے جاتے ہیں) تو میں نے دیکھا کہ سمندر میں اسی قسم کے بوائے لگے ہوئے ہیں اور ان کی زنجیریں بہت لمبی ہیں اور دور تک چلی جاتی ہیں خواب میں میں خیال کرتا ہوں کہ اس بوائے کا تعلق میری ذات سے ہے اور تمثیلی رنگ میں وہ بوائے میں ہی ہوں اور مجھے بتایا گیا کہ یہ نظارہ پانچ سال کے عرصہ سے تعلق رکھتا ہے۔تب میں