رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 200

200 ہے۔پھر میں نے مرزا احسن بیگ صاحب کو دیکھا اس میں بھی احسن کا لفظ آتا ہے۔الفضل 20 اپریل 1944ء صفحہ 2 مارچ 1944ء 264 فرمایا : ہفتہ کے دن مغرب کی نماز کے بعد ہم یہاں بیٹھے تھے اور میں نے دوستوں کو ایک رویا سنایا تھا میں نے کہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مرزا احسن بیگ صاحب آئے ہیں اسی طرح پیرا حسن الدین صاحب ڈپٹی کمشنر کے متعلق دیکھا کہ انہوں نے مجھے بلا بھیجا ہے۔فرمایا : مجھے یاد نہیں کہ میں نے پچھلے تمہیں سال میں ایک دفعہ بھی مرزا احسن بیگ صاحب کو خواب میں دیکھا مگر ادھر میں نے یہ رویا دیکھا ادھر دوسری صبح یہ اطلاع آئی کہ مرزا احسن بیگ صاحب کی بیٹی قادیان آتی ہوئی گاڑی میں گم ہو گئی ہیں۔مرزا افضل بیگ صاحب اپنے لڑکے کے رخصتانہ کے لئے وہاں گئے تھے اور وہ ان کی لڑکی کو رخصت کرا کے لا رہے تھے کہ رستہ میں گاڑی کا وہ حصہ جس میں مستورات سوار تھیں ریلوے والوں نے کاٹ کر کسی اور گاڑی کے ساتھ لگا دیا اور وہ گاڑی دوسری طرف چلی گئی پس مرزا احسن بیگ صاحب کا رویا میں آنا در حقیقت یہی تعبیر رکھتا تھا۔ادھر یہ واقعہ ہوا اور ادھر آج رات ہی رؤیا میں یہ تمام نظارہ دکھایا گیا اب تو مرزا افضل بیگ صاحب آچکے ہیں مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ آرہے ہیں اور نہ مجھے یہ معلوم تھا کہ کہاں یہ واقعہ ہوا مگر آج رات جبکہ میں نے ان کے لئے دعا کی تو مجھے دکھایا گیا کہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک اسٹیشن پر ان کی گاڑی کٹ کر کسی اور طرف لگ گئی ہے اور جدھر وہ آرہے تھے اس کی بجائے مشرق کی طرف چلی گئی ہے چنانچہ آج دوپہر دو بجے کے قریب ان کے محلہ کی ایک عورت ہمارے گھر میں آئی اور اس نے ذکر کیا کہ وہ لوگ رات 12 بجے آگئے ہیں اور واقعہ یوں ہوا تھا کہ ریلوے والوں نے گاڑی کا وہ حصہ کاٹ کر ایک دوسری گاڑی کے ساتھ لگا دیا جو آگرے کو چلی گئی۔اس طرح مرزا افضل بیگ صاحب تو دہلی پہنچ گئے اور ان کی بہو آگرہ جا پہنچیں۔میں نے بھی یہی دیکھا تھا کہ گاڑی کٹ کر مشرق کی طرف چلی گئی ہے اور اس طرح دو نو خوا ہیں پوری ہو گئیں گاڑی کا کٹ جاتا بھی پورا ہو گیا اور مرزا احسن بیگ صاحب کا آنا بھی پورا ہو گیا کیونکہ ان