رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 171
171 کہاں جا کر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں آپ کو ایک جگہ بتا تا ہوں آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں ایک اٹلی کے پادری نے گر جا بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوتی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دے دیتا ہے وہاں چلیں وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔میں کہتا ہوں بہت اچھا۔چنانچہ میں گائیڈ کو ساتھ لے کر پیدل ہی چل پڑتا ہوں ایک دو دوست اور بھی میرے ساتھ ہیں۔چلتے چلتے ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ گئے مگر وہ ایسی چوٹیاں ہیں جو ہموار ہیں اس طرح نہیں کہ کوئی چوٹی اونچی ہو اور کوئی نیچی جیسے عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں ہوتی ہیں بلکہ وہ سب ہموار ہیں جس کے نتیجہ میں پہاڑ پر ایک میدان سا پیدا ہو گیا ہے وہاں میں نے دیکھا کہ ایک پادری کالا سا کوٹ پہنے کھڑا ہے اور پاس ہی ایک چھوٹا سا گر جا ہے اس آدمی نے پادری سے کہا کہ باہر سے کچھ مسافر آئے ہیں انہیں ٹھہرنے کے لئے مکان چاہئے وہاں ایک مکان بنا ہوا نظر آتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پادری لوگوں کو کرایہ پر جگہ دیتا ہے اس نے ایک آدمی سے کہا کہ انہیں مکان دکھا دیا جائے وہ مجھے مکان دکھانے کے لئے لے گیا اور ایک دوست اور بھی ہیں میں نے دیکھا وہ کچا مکان ہے اور جیسے فوجی بار کیں سیدھی چلی جاتی ہیں اسی طرح وہ مکان ایک لائن میں سیدھا بنا ہوا ہے مگر کمرے صاف ہیں میں ابھی غور کر رہا ہوں کہ جو شخص مجھے کمرہ دکھا رہا تھا اس نے خیال کیا کہ کہیں میں یہ نہ کہہ دوں کہ یہ ایک پادری کی جگہ ہے ہم اس میں نہیں رہتے ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت میں کوئی روک پیدا ہو چنانچہ وہ خود ہی کہنے لگا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہو گی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔میں نے اسے کہا کہ اچھا مسجد دکھاؤ اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی مگر چھوٹی سی تھی ہماری مسجد مبارک سے نصف ہوگی لیکن اس میں چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بچھی ہوئی تھیں اسی طرح امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بھی بچھا ہوا تھا۔مجھے اس مسجد کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ ہمیں یہ جگہ منظور ہے خواب میں میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ مسجد وہاں کس طرح بنائی گئی ہے مگر بہر حال مسجد دیکھ کر مجھے مزید تسلی ہوئی اور میں نے کہا کہ اچھا ہو امکان بھی مل گیا اور ساتھ ہی مسجد بھی مل گئی۔تھوڑی دیر کے بعد میں باہر نکلا اور میں نے دیکھا کہ اتحاد تا احمدی وہاں آرہے ہیں خواب میں میں حیران ہو تا ہوں کہ میں نے تو ان سے یہاں آنے کا ذکر نہیں کیا تھا ان کو جو میرے یہاں آنے کا پتہ لگ گیا ہے تو