رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 172
172 معلوم ہوا کہ یہ کوئی محفوظ جگہ نہیں چاہے یہ دوست ہی ہیں لیکن بہر حال اگر دوست کو ایک مقام کو علم ہو سکتا ہو تو دشمن کو بھی ہو سکتا ہے محفوظ مقام تو نہ رہا چنانچہ خواب میں میں پریشان ہو تا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ہمیں پہاڑوں میں اور زیادہ دور کوئی جگہ تلاش کرنی چاہئے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب آگئے ہیں۔میں اس وقت مکان کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں انہوں نے مجھے سلام کیا۔میں نے ان سے کہا کہ لڑائی کا کیا حال ہے انہوں نے کہا دشمن غالب آگیا ہے میں کہتا ہوں کہ مسجد مبارک کا کیا حال ہے انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے میں نے کہا اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے تب تو کامیابی کی امید ہے میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے وہاں آئے ہیں اور تنظیم کرنے کے بعد دشمن کو پھر شکست دیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ اور دوست بھی وہاں پہنچ گئے ہیں ان کو دیکھ کر مجھے اور پریشانی ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ تو بالکل عام جگہ معلوم ہوتی ہے حفاظت کے لئے یہ کوئی خاص مقام نہیں ان دوستوں میں ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ہیں اور لوگوں کو میں پہچانتا نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ احمدی ہیں حافظ صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا بڑی تباہی ہے بڑی تباہی ہے پھر ایک شخص نے کہا کہ نیلے گنبد میں ہم داخل ہونے لگے تھے مگر وہاں بھی ہمیں داخل نہیں ہونے دیا گیا میں نے نیلا گنبد لاہور کا ہی سنا ہوا ہے واللہ اعلم کوئی اور بھی ہو بہر حال اس وقت میں نہیں کہہ سکتا کہ نیلے گنبد کے لحاظ سے اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے البتہ اس وقت بات کرتے کرتے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ نیلا سمندر کا رنگ ہوتا ہے ممکن ہے کوئی خلیج ایسی ہو جسے انگریز محفوظ سمجھتے ہوں مگر وہاں بھی تباہی ہو۔اس کے بعد حافظ صاحب نے کوئی واقعہ بیان کرنا شروع کیا اور اسے بڑی لمبی طرز سے بیان کرنے لگے جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات کو جلدی ختم نہیں کرتے بلکہ اسے بلاوجہ طول دیتے چلے جاتے ہیں اسی طرح حافظ صاحب نے پہلے ایک لمبی تمہید بیان کی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جالندھر کا کوئی واقعہ بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے اور ایک منشی کا جو غیر احمدی ہے اور پٹواری یا گرداور ہے بار بار ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منشی جی ملے اور انہوں نے بھی اسی طرح کہا میں خواب میں بڑا گھبراتا ہوں کہ یہ موقع تو