رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 170

170 ہے کیونکہ کاغذات جلاتے وقت کسی اخباری رپورٹر کی نگاہ اس پر پڑ گئی ہو گی بہر حال اس جنگ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھا کر مجھے بتایا کہ اب کوئی نئی حکومت جنگ میں شامل ہونے والی ہے اور اس کے سفارت خانوں میں ضروری کاغذات جلائے جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔دسمبر 1941ء 241 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں جو ہمارے مکانوں سے جنوب کی طرف ہے اور اس میں ایک بڑی بھاری عمارت ہے جو کئی منزلوں میں ہے اس کئی منزلہ عمارت میں میں بھی ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یکدم غنیم حملہ کر کے آگیا ہے اور اس غنیم کے حملہ کے مقابلہ کے لئے ہم لوگ تیاری کر رہے ہیں۔میں اس وقت اپنے آپ کو کوئی کام کرتے نہیں دیکھتا مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں بھی لڑائی میں شامل ہوں یوں اس وقت میں نے نہ تو تو ہیں دیکھی ہیں نہ کوئی اور سامان جنگ، مگر میں سمجھتا بھی ہوں کہ تمام قسم کے آلات حرب استعمال کئے جا رہے ہیں۔اس دوران میں میں نے محسوس کیا کہ وہاں پڑول کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے میں تیزی سے اتر کر نچلی منزل میں آتا ہوں اور کہتا ہوں پڑول ختم ہو گیا ہے۔اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ ہمیں پڑول موٹروں کے لئے نہیں چاہئے بلکہ دشمن پر پھینکنے کے لئے پٹرول کی ضرورت ہے چنانچہ مجھے کسی شخص نے بتایا کہ نیچے ایک تہہ خانہ ہے جس میں پڑول موجود ہے اس پر ایک شخص اس تہ خانہ میں گیا اور چھ گیلن پٹرول کی بیرل لے کر آگیا ساتھ ہی اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک سیڑھی ہے تاکہ سیڑھی کی مدد سے وہ اوپر چڑھ کر دشمن پر پڑول پھینک سکے یہ دونوں چیزیں اٹھا کر اس نے اوپر چڑھنا شروع کیا اور اتنی تیزی سے وہ چڑھنے لگا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گر جائے گا چنانچہ میں اسے کہتا ہوں سنبھل کے چڑھو ایسا نہ ہو کہ گر جاؤ اور خواب میں میں حیران بھی ہوتا ہے کہ کیسا بہادر آدمی ہے کہ اس کے ہاتھ میں چھ گیکن یعنی تمیں سیر پٹرول ہے اور ہاتھ میں سیڑھی ہے اور یہ اس بہادری سے چڑھتا چلا جاتا ہے۔پھر یہ نظارہ بدل گیا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے ہم اس مکان میں سے نکل آئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن غالب آگیا ہے اور ہمیں وہ جگہ چھوڑنی پڑی ہے باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور