رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 152
152 جس وقت یہ خواب دیکھا 1940ء کی بات ہے اس وقت ہماری لڑکی امتہ الجمیل ساڑھے تین سال کی تھی تو میں نے دیکھا کہ ام طاہر مرحومہ وہاں سو رہی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بچہ سو رہا ہے میں نے ام طاہر مرحومہ کو جگانا شروع کیا لیکن وہ میرے جگانے پر جلدی نہ اٹھیں۔میں کہتا ہوں خطرہ ہے اٹھو اور بچہ کو لے لو مگر انہوں نے اٹھنے میں دیر کی تو میں نے وہ بچہ اٹھالیا اس وقت وہ بچہ لڑکا بن گیا ممکن ہے اللہ تعالی ام طاہر مرحومہ کی بچیوں یا بچوں کو مبارک لڑکا دے یا امتہ الجمیل جولڑکے کی صورت میں دکھائی گئی ہے ممکن ہے جیسے حضرت مریم علیھا السلام کے متعلق آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مردوں کے کام کی توفیق دے دے۔بہر حال میں نے بچہ کو اٹھالیا اور میں نے کہا کہ میں بچہ لے کر چلتا ہوں تم جلدی جلدی میرے پیچھے آؤ۔وہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مٹی ڈال کر کسی اونچی جگہ پر رستہ بنا دیا جاتا ہے جیسے پہاڑوں پر مکان ہوتے ہیں اور ایک منزل نیچے اور ایک اوپر ہوتی ہے اور اوپر کی منزل کے ساتھ بھی گو وہ اونچی ہوتی ہے پہاڑ پر رستہ مل جاتا ہے اسی طرح اس مکان کی بھی دوسری یا تیسری منزل ہے اور وہاں سے بھی ایک سڑک نیچے کی طرف جاتی ہے اس پر میں تیز تیز چلتا ہوں اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا جاتا ہوں اور ام طاہر مرحومہ کو اشارہ کرتا چلا جاتا ہوں کہ جلدی جلدی چلو دور جانے کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ جھونپڑیاں ہیں جن کی پھونس کی دیواریں اور پھونس کی چھتیں ہیں وہاں ایک کٹہرے کے ساتھ جو سڑک پر بنا ہوا ہے مجھے ایک عورت نظر آئی میں نے اسے کہا کہ کیا یہاں کوئی ٹھرنے کی جگہ مل سکتی ہے۔اس نے کہا ہاں مل سکتی ہے اتنے میں ام طاہر مرحومہ بھی قریب آگئیں اور میں نے اس عورت سے کہا کہ بتاؤ کونسی جگہ ہے وہ ہمیں گاؤں میں لے گئی جیسے گاؤں میں جگہیں ہوتی ہیں کہیں اپلے پڑے ہیں اور کہیں کوڑا کرکٹ پڑا ہے ایسی جگہوں سے چلتے چلتے ایک چھوٹی سے پھونس کی دیواروں والی جھونپڑی آئی وہ ہمیں وہاں لے گئی کچھ لوگ وہاں جمع ہو گئے میں نے ان سے حالات پوچھنے شروع کئے حالات پوچھتے ہوئے مذہب کی باتیں شروع ہو گئی ہیں اس وقت میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ تمہارا مذہب کیا ہے تو ان میں سے ایک مرد پہلے تو ہچکچاتا ہے اس کے بعد اس نے کہا ہم ایک نئے مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔میں نے کہا وہ کو نسا فرقہ ہے تو پھر وہ ایسے رنگ میں جیسے کوئی شخص خیال کرتا ہے کہ مخاطب اس کے متعلق نہیں جانتا اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بتانا فضول ہے۔کہتا ہے کہ ہندوستان کا ایک فرقہ ہے میں نے کہا ہندوستان کا