رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 150

150 فٹ بال کو لے کر دوڑنے لگے مگر جب وہ گول کے قریب پہنچ گئے تو وہاں انہوں نے کچھ گول گول سی چیزیں بنالیں جس کے اندروہ بیٹھ گئے اور باہر یہ بیٹھ گئے بعینہ اسی طرح جر من لشکر نے جب حملہ کیا تو وہ پیرس تک پہنچ گیا مگر پھر اسے واپس لوٹنا پڑا اور جب سرحد پر واپس لوٹ آیا تو وہاں اس نے ٹرنچز (Trenches) بنالیں اور اس کے اندر بیٹھ گئے اور اس طرح چار پانچ سال تک وہاں لڑائی ہوتی رہی۔الفضل 5۔جون 1940 ء صفحہ 9۔نیز دیکھیں۔الموعود( تقریر جلسہ سالانہ 28۔دسمبر 226 112 (1944 مئی 1940ء فرمایا : جب جرمنی کے مقابلہ میں اتحادی فوجوں کو فلنڈرز میں پہلی شکست ہوئی تو اس وقت میں کراچی میں تھا مجھے پر اس خبر کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ رات کو میری نیند اڑ گئی اور بے چینی اور اضطراب کی حالت میں میں نے اتحادیوں کی کامیابیوں کے لئے دعا کرنی شروع کردی اور گھنٹوں دعا کر تا رہا جب صبح ہونے کے قریب ہوئی تو اس وقت الہام ہوا۔ہم الزام ان کو دیتے ہیں قصور اپنا نکل آیا میں نے بعد میں سوچا کہ اس کا کیا مفہوم ہے تو اس کا مطلب میری سمجھ میں یہ آیا کہ ابھی دو چار سال پہلے تو بہت سے احمدیوں کے دلوں سے حکومت کے خلاف آہیں نکل رہی تھیں اور اب ان کی کامیابی کے لئے دعائیں کر رہے ہیں گویا اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ہماری جماعت کی طرف سے کر ہیں اللہ تعالی کہ اس موقع پر جو بد دعائیں کی گئی تھیں وہ ضرورت سے زیادہ تھیں اور اس میں توازن کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا یعنی یہ نہیں دیکھا گیا کہ ظلم کتنا ہے اور آہیں کتنی بلند ہو رہی ہیں اور نہ یہ سوچا گیا کہ اگر یہ حکومت تہ و بالا ہو گئی تو اس کے بعد جو آئے گا وہ کیسا ہو گا۔اچھا ہو گا یا برا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ہم الزام ان کو دیتے ہیں قصور اپنا نکل آیا (الفضل 4۔جون 1940ء صفحہ 3) 227 مئی 1940ء فرمایا : میں 25 کو کراچی کے سفر سے واپس آرہا تھا کہ میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک میدان ہے جس میں اندھیرا سا ہے اور اس میں ایک شخص سیاہی مائل سبز وردی پہنے کھڑا ہے