رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 148

148 پھاوڑے مارتے ہیں تو مٹی کا ڈھیر کٹ کٹ کر علیحدہ ہوتا ہے اس ہاتھی کی تمام مٹی ہٹانے کے بعد لاش اس کے نیچے سے نکلتی ہے اور ایک شخص بڑے افسوس سے کہتا ہے کہ یہ محبت کی لاش ہے اور میں اسے دیکھ کر إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہتا ہوں۔یہ لاش بالکل ایسی ہے جیسے گتے کے اوپر کوئی تصویر ہوتی ہے اور بوجھ کی وجہ سے پچک گئی ہے سر اور دھڑ کا گوشت بالکل کھایا جا چکا ہے اور ڈھانچہ بالکل اسی طرح چپکا ہوا ہے جیسے گئے پر تصویر ہوتی ہے لاتیں بھی نظر تو آتی ہیں مگر بالکل ہڈیاں ہیں۔سب لوگ اسے دیکھ کر رو رہے ہیں میں اس کے قریب پہنچتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک پتلا ساڈھانچہ ہے میں قیاس کر کے اس کے دل پر ہاتھ رکھتا ہوں اور ایک شخص سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں تمہیں معلوم ہے کہ میرا الہام ہے کہ ”ہم نے ایک مردہ کو زندہ کیا۔آؤ اب ہم اس کی آنکھوں میں نور ڈالیں اور میں کہتا ہوں کہ یہ الہام ایسے ہی موقع کے لئے تھا " اور پھر میں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ تو نے ہی یہ الہام مجھے کیا تھا اور اب میں اس کی زندگی کے لئے تجھے ہی سے دعا کرتا ہوں اے میرے رب! تو اس مردہ کو زندہ کر دے۔رویا میں ہی مجھ پر یہ اثر بھی ہے کہ مردے زندہ نہیں ہوا کرتے مگر پھر یہ خیال آتا ہے کہ نہیں اس کے زندہ ہونے کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور جب میں نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رگیں پھولنے لگی ہیں تب میں نے اس کے پیٹ کی جگہ پر پانی کا چھینٹا دیا اور کہا اے میرے رب! تو اس مردہ کو زندہ کر دے اور میں نے دیکھا کہ اس کی ناف کی جگہ پر وہ پانی جمع ہونا شروع ہوا اور یوں معلوم ہوا کہ وہ اس کے جسم میں جذب ہو رہا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت نمودار ہونا شروع ہوا اور اس کے سر کی جگہ ربڑ کے غبارہ کی طرح موٹی ہوئی شروع ہوئی اور پھر وہ گول ہونے لگا اور اس میں سے سر، چہرہ آنکھیں ، ناک اور گردن نظر آنے لگی۔بعض آدمی جو وہاں کھڑے ہیں میں ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ دیکھو یہ سانس لینے لگا ہے۔اس کے بعد اس کی لاتوں پر گوشت چڑھنے لگا اور اس طرح ہوتے ہوتے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جان پڑ گئی ہے مگر اس کی آنکھوں میں نور نہیں اور میں کہتا ہوں کہ مجھے الہام ہوا تھا کہ ہم نے ایک مردہ کو زندہ کیا تھا آؤ اب ہم اس کی آنکھوں میں نور ڈالیں۔اور مجھے گھبراہٹ بہت ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں اور میں اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہوں کہ