رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 147
147 223 مارچ 1940ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ملاقات کے دفتر میں بیٹھا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ صحن میں دو ہوائی جہاز ہیں جن میں سے ایک میں دنیا کی حکومت اور دوسرے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق ہے اور یہ دونوں اکٹھے پرواز کرنے لگے ہیں جب وہ اڑنے لگے ہیں تو آواز آتی ہے اور میں پوچھتا ہوں کہ کیا بات ہے۔میری بیویاں پاس ہیں اور وہ بتاتی ہیں کہ دونوں جہاز اڑے ہیں ہم لوگ چونکہ ہوائی جہازوں میں پرواز کے عادی نہیں اس لئے عام طور پر اس میں سفر کو ہندوستان میں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ جب مجھے بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی حکومت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عشق علیحدہ علیحدہ ہوائی جہازوں میں پرواز کرنے لگے ہیں تو میں گھبرا کر کہتا ہوں کہ اوہو یہ ہوائی جہاز میں گئے ہیں کہیں کوئی حادثہ نہ پیش آجائے اور میں بر آمدہ میں کولوں کے پاس کھڑا ہو کر دیکھتا ہوں مگر وہ کہیں واپس آتے ہوئے نظر نہیں آتے۔میں گھبرا کر کہتا ہوں، چلو ان کی تلاش کریں رات کا وقت ہے میں تلاش کے لئے نکلتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو ساتھ لے لوں۔وہاں جاتا ہوں تو طالب علم کھیل رہے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ سب چلو مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر احمدی لڑکا بھی ان میں ہے جو مجھے جانتا نہیں اور وہ کہتا ہے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی اجازت نہیں ہم کیسے جائیں مگر ایک لڑکا اسے ڈانٹتا اور کہتا ہے کہ خاموش رہو تمہیں پتہ نہیں یہ حضرت خلیفۃ المسیح ہیں ان کی اجازت کے بعد کسی دوسرے کی اجازت کی ضرورت نہیں۔میں ان لڑکوں کو ساتھ لے کر مغرب کی طرف جاتا ہوں اور ایک جگہ سے بڑے زور سے چیخنے اور چلانے کی آواز میں آ رہی ہیں اور معلوم ہوا کہ جس جہاز میں دنیا کی حکومت اور بادشاہت تھی وہ تو واپس آگیا مگر جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تھی اسے ایکسیڈنٹ پیش آیا جس سے جہاز ٹوٹ گیا اور وہ مرگئی اور زور زور سے رونے کی آوازیں آرہی ہیں مگر وہاں لاش کے کوئی آثار نہیں۔کچھ لوگ ہوائی جہاز کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے مٹی کھود رہے ہیں مگر کچھ نہیں نکلا اور اس کوشش میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہاتھی مرکز گرا ہوا ہے اور خواب میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اتنا پرانا ہے کہ ہاتھی بھی گل سڑ کر خاک ہو چکا ہے اور جب اس میں