رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 131
131 211 مارچ 1938ء فرمایا : اس مقدمہ میں ایک اور نشان بھی ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قتل کے مقدمہ کے متعلق رویا ہو گئی تھی اسی طرح اس مقدمہ میں مجھے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رویا ہوئی جو بالکل صحیح ثابت ہوئی۔مجھے شیخ بشیر احمد صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ اس درخواست کے فیصلہ کے لئے جو تاریخ مقرر تھی وہ بدل دی گئی ہے پھر اس کے بعد دوبارہ اطلاع دی که دو سری تاریخ جو مقرر ہوئی وہ بھی بدل گئی ہے میں نے انہیں کہا کہ یہ تاریخوں کا بد لنا اچھا نہیں کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ اس عرصہ میں جوں پر مخالف اثر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔میں بہت حیران تھا کہ ہائیکورٹ کے جج تو بڑے پایہ کے لوگ ہوتے ہیں ان پر بیرونی اثر ڈالنا تو نا ممکن ہے مگر اس کی کوشش کرنا بھی بظاہر نا ممکن ہے پھر یہ رویا کس طرح پورا ہو گا مگر خدا تعالیٰ نے اس کے بھی سامان پیدا کر دیئے اور وہ اس طرح کہ ان لوگوں نے فخر الدین صاحب ملتانی کے لڑکے کی طرف سے ایک ٹریکٹ انگریزی میں شائع کر کے بچوں کو بھجوا دیا اور اسے مظلوم قرار دے کر ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔اس ٹریکٹ میں میرے حوالوں کو غلط طور پر کانٹ چھانٹ کر پیش کیا گیا اور ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا وہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور میاں فخر الدین کو میں نے مروا دیا ہے۔ٹریکٹ علاوہ دوسرے لوگوں کے بچوں کو بھی بھجوایا گیا اور اس طرح ججوں کے خیالات پر اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس منصوبہ کو بھی ناکام کیا اور ججوں کو سچ تک پہنچنے کی توفیق دی اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ خطبہ میں ہرگز جسمانی سزا کی طرف کسی کو ترغیب نہیں دلائی گئی بلکہ روحانی سزا کا ذکر ہے۔الفضل 18۔مارچ 1938ء صلحہ 9 - 10 مارچ۔اپریل 1938ء 212 فرمایا : اس سفر سندھ میں ایک دن کسی بات پر مجھے سخت تکلیف اور رنج تھا اور سارا دن میری طبیعت پر اس کا اثر رہا شدید گھبراہٹ تھی رات کو میں نے بہت دعا کی اور جب سویا تو ایک رؤیا دیکھا کہ جیسے میں کسی غیر ملک میں ہوں اور وہاں سے دوسرے ملک کو واپسی کا سفر اختیار کرنے والا ہوں۔میرے ساتھ خاندان کی بعض مستورات بھی ہیں اور بعض مرد بھی۔خواب