رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 132

132 میں میں سمجھتا ہوں جیسا کہ میں انگلستان میں ہوں اور فرانس سے ہو کر مشرق کی طرف آرہا ہوں۔ہم ریل پر سوار ہونے کے لئے پیدل جا رہے ہیں ریل کے سفر کے بعد جہاز پر چڑھنے کا خیال ہے۔چلتے ہوئے ہم ایک خوبصورت چوک میں پہنچے جہاں ایک عالی شان مکان ہے اور اس کا مالک کوئی انگریز ہے۔مجھے کسی نے آکر کہا کہ اس کا مالک اور اس کی بیوی آپ سے چند منٹ بات کرنا چاہتے ہیں اگر آپ تھوڑی سی تکلیف فرما کر وہاں چلیں تو بہت اچھا ہے۔میں نے اس سے ملنا منظور کر لیا اور میں بھی اور میرے ساتھ کی مستورات بھی اس مکان میں گئیں۔عورتیں جا کر اس کی بیوی کے پاس بیٹھ گئیں اور باتیں کرنے لگیں اور میں اس آدمی کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔مختلف علمی باتیں ہوتی رہیں گفتگو کوئی مذہبی نہیں تھی بلکہ علمی تھی مثلاً یہ کہ مستشرقین یعنی عربی دان انگریز کون کون سے ہیں نیز بعض تمدنی تحقیقاتوں کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔باتوں میں اس نے عبدالحی عرب کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نے فلاں انگریز کو عربی پڑھائی ہے میں نے کہا کہ میں عبدالحی عرب کو جانتا ہوں وہ بوجہ عرب ہونے کے خراب شدہ عربی بول لیتے ہیں مگر عربی کے کوئی عالم نہیں۔اس نے کہا کہ خیر کتاب پڑھانا کیا مشکل ہوتا ہے لغت کی کتابیں دیکھ کر پڑھایا جا سکتا ہے۔جب وہاں سے چلنے لگے ہیں تو میں اپنے دل میں ڈر رہا ہوں کہ اس کی بیوی اب مجھ سے مصافحہ کرے گی اور میں اسے کہتا ہوں کہ آپ برا نہ منائیں ہمار اند ہی حکم ہے کہ عورتوں سے مصافحہ جائز نہیں۔یہ سن کر اس کے چہرہ پر تو تغیر پیدا ہوا مگر اس نے جواب دیا کہ اگر آپ کے مذہب کا یہ حکم ہے تو پھر بر امنانے کی کیا بات ہے۔پھر اس خیال سے کہ مجھے یہ خیال نہ ہو کہ اس نے برا منایا ہے اس نے ہنس کر کہا کہ اللہ تعالٰی آپ کے اس سفر کو کامیاب کرے۔میں وہاں سے چلا اور مستورات کے ساتھ نیچے آیا ہوں تو بعض دوست نیچے کھڑے ہیں جن میں میر محمد اسماعیل صاحب اور درد صاحب بھی ہیں۔میں ان سے بات چیت کرتا اور کہتا ہوں کہ اب ہمیں چلنا چاہئے مگر وہ کہتے ہیں کہ شاید آپ کو خیال نہیں رہا کہ بڑی دیر ہو گئی ہے رات کے دس بج چکے ہیں اور اب تو گاڑی جا چکی ہوگی۔پھر وہ مجھے پوچھتے ہیں کہ آپ نے کھانا کھالیا میں کہتا ہوں کہ نہیں ابھی کھاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اہل خانہ نے بعض مہمانوں کو دو چار مرتبہ پیغام بھیجا کہ آجاؤ تا کھانا کھا سکیں اس لئے ہمارا خیال تھا کہ آپ بھی کھا چکے ہیں۔میں نے کہا ممکن ہے اس کا خیال ہو کہ وہ آجائیں تو کھالیں مگر نہ وہ مہمان آئے اور نہ کھانا کھلایا گیا۔پھر