رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 130
130 دن نماز ظهر یا عصر یہ بھی مجھے صحیح طور پر یاد نہیں) میں پڑھا رہا تھا اور اس وقت مجھے خواب (اوپر والی۔ناقل ) کا خیال بھی نہیں تھا گویا اس وقت وہ میرے ذہن سے بالکل اتری ہوئی تھی کہ جب میں نے رکوع کے بعد قیام کیا اور پھر سجدہ میں جانے کے لئے اللہ اکبر کہا تو جس وقت اوپر سے نیچے سجدہ کی طرف جانے لگا تو معا القاء کے طور پر میرے دل پر ایک آیت نازل ہوئی اور مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ آیت ہے جو اس مضمون کی حامل ہے جو خواب میں بتایا گیا ہے اور پھر بجلی کی طرح اس طرح وہ وسیع مضمون میرے سامنے آگیا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف وہ آیت بلکہ سورۃ کی سورۃ ہی حل ہو گئی اور اس کی ترتیب جو میں پہلے سمجھتا تھا اس کے علاوہ ایک ایسی ترتیب مجھ پر کھول دی گئی کہ مجھے یوں معلوم ہونے لگا کہ اس سورۃ میں ہر آیت اس طرح پروئی ہوئی ہے جس طرح کے موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں اور کوئی آیت اس سورۃ میں ایسی نہ رہی جس کے متعلق یہ شبہ ہو سکے کہ اس کا پہلی آیتوں یا بعد کی آیتوں سے کیا تعلق ہے۔وہ سورۃ جس کی طرف میرا ذہن منتقل کیا گیا سورہ نور ہے اور وہ آیت جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ اس میں الوہیت، نبوت اور خلافت کے تعلقات پر بحث کی گئی ہے اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (النور : 36) ہے۔الفضل 24۔ستمبر 1937ء صفحہ 6 210 $1937 فرمایا : میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ کوئی شخص مجھ سے سوال کرتا ہے کہ قرآن کریم میں مختلف مسائل کا تکرار ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ میں اسے جواب دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں کوئی تکرار نہیں۔لفظ تو الگ رہے قرآن مجید میں تو زیر اور زبر کی بھی تکرار نہیں جو زیر ایک جگہ استعمال ہوئی ہے اس کی غرض دوسری جگہ آنے والی زیر سے مختلف ہے اور جو زبر ایک جگہ استعمال ہوئی ہے دوسری جگہ آنے والی زبر سے اس کے سنے مختلف ہیں یہ قرآن مجید کی وہ خوبی ہے جو کسی اور الہامی کتاب کو ہرگز حاصل نہیں۔انقلاب حقیقی (ایڈیشن دوم صفحہ 83-84 تقریر جلسہ سالانہ 28۔دسمبر 1937ء)