رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 125
125 مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس فتنہ کو دبانے کے لئے آ رہی ہے۔اس کے بعد میں سو گیا اور میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک دشمن نے مجھ پر حملہ کیا ہے اور میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا ہے اور وہ بے ہوش ہو کر گر گیا ہے یہ معلوم نہیں کہ مرگیا یا زندہ ہے۔پھر تیسرا نظارہ بدلا اور میں نے دیکھا کہ کوئی شخص ہمارے مکان میں گھس آیا ہے اور میں اسے پکڑنے کے لئے اٹھا ہوں مگر میری آنکھوں پر کٹوپ پڑا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہ ہو وہ مجھ پر حملہ کر دے کیونکہ میری آنکھوں پر تو کٹوپ ہے۔اس پر میں نے کنٹوپ اتارنا شروع کیا حتی کہ میری آنکھیں بالکل ننگی ہو گئیں مگر اتنے میں وہ بھاگ گیا۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ابھی کچھ مخفی مخالف ہیں 1935ء والے رویا میں یہ دکھایا گیا تھا کہ بعض مخالف بلوں میں چھپ جائیں گے اور بعض کے زخمی ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ ظاہر ہو جائیں گے۔بہر حال وہ چھپ جائیں یا ظاہر ہوں ہمارے لئے اللہ تعالی کی طرف سے نصرت کا وعدہ ہے۔ہمارا خدا دیکھنے والا ہے وہ اگر چھپیں بھی تو کہاں چھپ سکتے ہیں انہیں ظاہر کرا کے یا تو وہ انہیں ہمارے ہاتھوں سے سزا دے گا یا اندر ہی اندر طاعون کے چوہوں کی طرح انہیں مار دے گا۔الفضل 17 - جولائی 1937 ء صفحہ 6۔نیز دیکھیں۔الفضل 10۔مئی 1944ء صفحہ 4 و 30۔جنوری 1945ء صفحہ 5 و 6 اپریل 1949ء صفحہ 3 و 23 اگست 1964ء صفحہ 4 اور سیر روحانی جلد 2 صفحہ 139 ( شائع کردہ الشركة الاسلامیہ ربوہ) جولائی 1937ء 206 فرمایا : چند روز ہوئے کہ مجھے الہام ہو ا جو اپنے اند ر دعا کا رنگ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ ”اے خدا! میں چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہو ا ہوں تو میری مدد فرما۔پھر اس کے تین چار روز بعد الہام ہو ا جو گویا اس کا جواب ہے کہ گا۔९९ میں تیری مشکلات کو دور کروں گا اور تھوڑے ہی دنوں میں تیرے دشمنوں کو تباہ کر دوں آخری الفاظ "تباہ کر دوں گا“ یا ” برباد کر دوں گا“ یا ”مٹا دوں گا“ تھے صحیح طور پر یاد نہیں رہے۔الفضل 30 جولائی 1937ء صفحہ 10۔نیز دیکھیں۔الفضل 23۔اگست 1964ء صفحہ 4