رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 126
126 207 جولائی 1937ء فرمایا : انہی دنوں میں نے ایک رویا دیکھا ہے وہ بھی مخالفوں کے تباہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک درختوں کا چھوٹا سا جنگل ہے جس میں کچھ درخت ہیں اور کچھ کھلا میدان ہے اور تین چار چار پائیاں پڑی ہیں دو شرقا غربا ایک شمالاً جنوبا ان میں سے ایک پر میں بیٹھا ہوں اور ایک پر ایک بچہ اور ایک عورت بیٹھے ہیں۔وہ عورت اگر چہ محرم معلوم ہوتی ہے مگر اس وقت اس کا نام ذہن میں نہیں آتا۔میں نے یکدم دیکھا کہ بھورے رنگ کا ایک سانپ جو قریبا ڈیڑھ گز لمبا ہے چارپائی کے نیچے سے نکلا ہے۔میرے پاس چھوٹی سی سوئی ہے میں نے دوڑ کر اسے مارا سوئی اس کی کمر میں لگی اور وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو مونی ہے اور اس کی دم اور سردونوں ہی میں زندگی کے آثار معلوم ہوتے ہیں (جیسا کہ عوام میں مشہور ہے۔دو مونہی سانپ میں دو زندگیاں ہوتی ہیں سر کی طرف بھی اور دم کی طرف بھی) مگر اب اس میں بھاگنے اور حملہ کرنے کی طاقت نہیں رہی وہ کھسکتا ہے۔عورت اس کے پاس آئی مگر بچہ وہیں بیٹھا رہا وہ لکڑی کے ساتھ اسے ہلاتی ہے۔میں بھی ایک سرا ہلا رہا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ سانپ چھوٹا ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ڈیڑھ بالشت کے قریب رہ گیا اور ساتھ ہی پتلا بھی ہوتا گیا پھر دائیں طرف ایک درخت کے نیچے آگ جلتی ہوئی نظر آئی میں نے اس عورت سے کہا کہ اس کا ایک ٹکڑا لکڑی سے تم اٹھاؤ اور ایک میں اٹھاتا ہوں اور اسے آگ میں ڈال دیں تا جل جائے۔میں نے تو ایک ٹکڑا آگ میں ڈال کر او پر بوجھ رکھ دیا اور وہ جل کر راکھ ہو گیا دوسرا حصہ جو اس عورت کو جو میں سمجھتا ہوں ہماری رشتہ دار ہے مگر خیال نہیں کہ کون ہے آگ میں ڈالنے کے لئے کہا تھا وہ اس نے پھینکا تو بجائے آگ کے وسط میں گرنے کے آگ کے آخری حصہ میں گرا۔اس پر میں کہتا ہوں کہ یہ آگ سے نکل نہ جائے اسی لئے میں نے ایک اینٹ اٹھا کر اس کے اوپر پھینک دی تا وہ اچھی طرح جل جائے اور پھر اسے آگ لگ گئی اور وہ جل گیا مگر اس کا سر ایک چھوٹی انگلی کی پور کے برابر آگ میں سے نکل کر جھاڑی کی جڑ کی طرف چلا گیا میں اسے بھی مارنا چاہتا ہوں مگر وہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔اب اس کی یہ تعبیر بھی ہو سکتی ہے کہ اس فتنہ کا تھوڑا سا حصہ باقی رہ جائے گا اور یہ بھی کہ