روشنی کا سفر — Page 90
قرآن شریف تسبیح۔۔۸۷۔بابا گرونانک کے مسلمان ہونے کی ایک اور گواہی 1908ء میں حضرت مسیح موعود کو با وانا تک صاحب کے مسلمان ہونے کی ایک نئی شہادت ملی اور وہ یہ کہ گورو ہر سہائے واقع ضلع فیروز پور میں سکھوں کے ایک نہایت معزز خاندان کے قبضہ میں باوا نانک صاحب اور بعد کے گدی نشین گوروؤں کے چند تبرکات چلے آتے تھے جن میں باوا صاحب کی ایک تسبیح ، پوتھی، قرآن شریف اور چند دیگر اشیاء بھی تھیں۔یہ قرآن شریف اور دیگر تبرکات نہایت ادب کے ساتھ بہت سے ریشمی غلافوں میں بند تھے اور گورو بشن سنگھ صاحب کے پاس تھے جن کے مورث اعلیٰ سکھوں کے چوتھے گورو رام داس تھے۔امرتسر کا مشہور سنہری مندر ان ہی گور و صاحب سے موسوم ہے۔ان تبرکات کے سبب یہ خاندان سکھ قوم میں ہمیشہ ممتاز اور بڑی بڑی جاگیروں کا مالک رہا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مہاراجہ والی ریاست فرید کوٹ بھی وہاں گئے اور ایک ہاتھی اور ایک ہزار روپیہ نقدان تبرکات کے سبب گر و صاحب کی نذر کیا۔حضور علیہ السلام نے چشمہ معرفت میں یہ تمام تفصیلات درج فرما کر لکھا کہ۔’باوانا تک صاحب کا وجود تمام ہندوؤں پر خدا تعالیٰ کی ایک حجت ہے، خاص کر سکھوں پر جو ان کے پیرو کہلاتے ہیں۔خدا نے آریوں میں سے ایک ایسا مقدس شخص پیدا کیا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اسلام سچا ہے اور جو تکذیب کرتے ہیں وہ ان کے منہ پر تھوکتے ہیں۔پس اے وہ۔۔۔۔لوگ! جو اس مقدس گرو کے سکھ ہو خدا سے ڈرو! صرف میں ہی تم کوملزم نہیں کرتا بلکہ وہ مقدس بزرگ بھی تم کو ملزم کر رہا ہے جس کی پیروی کا تم کو دعوئی ہے۔اگر تم اس مقدس گرو کے بچے سکھ ہو تو ہندوؤں کا تعلق چھوڑ دو جیسا کہ اس نے چھوڑ دیا تھا۔اور اس پاک مذہب کی روشنی سے تم بھی نور حاصل کرو جس کے نور سے وہ بزرگ روشن ہو گیا تھا۔“ چشمیه معرفت روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ 355-354)۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح 17 فروری 1908ء کو حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح حجۃ اللہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ سے