روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 89 of 104

روشنی کا سفر — Page 89

نہ ہوسکی اس واسطے آج پھر میں تقریر کرتا ہوں۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں جس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سالِ آئندہ تک زندہ رہے گا اور کون مرجائے گا ؟“ ان دردانگیز الفاظ کے بعد جو دلوں کو ہلا دینے والے تھے حضور نے اپنے خدام کو نہایت لطیف پیرائے میں شرح وبسط کے ساتھ صبر کی تلقین فرمائی۔علاوہ ازیں ان کو اور بھی قیمتی نصائح سے نوازا۔اور یہ سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی تقریران الفاظ پر ختم ہوئی :۔کیا پہلے سے نہیں کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قرناء آسمان سے پھونکی جائے گی۔کیا وحی خدا کی آواز نہیں۔انبیاء جو آتے ہیں وہ قرناء کا حکم رکھتے ہیں۔نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گا وہ سنا دے گا کہ اب تمہارا وقت آ گیا ہے۔کون کسی کو درست کر سکتا ہے۔جب تک خدا درست نہ کرے۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ایک قوتِ جاذبہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔خدا کے کام کبھی حبط نہیں جاتے۔ایک قدرتی کشش کام کر دکھائے گی۔اب وہ وقت آ گیا ہے جس کی خبر تمام انبیاء ابتداء سے دیتے چلے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور تو بہ کرو اسی روز 28 دسمبر 1907ء کو بعد از نماز مغرب صدر انجمن احمدیہ کی کانفرنس ہوئی جس میں بیرونجات کی اکثر انجمنوں کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ شامل ہوئے سیکرٹری صاحب کی پیش کردہ رپورٹ مختلف صیغوں کی پڑھی گئی اور اس کے بعد بجٹ برائے 1908 ء پیش ہوا۔بجٹ کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب نے تمام ضروری امور پر ایک مفصل بحث کی۔ازاں بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب نے ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ قرآن شریف کی رو سے کس قسم کی انجمنوں کا بنانا جائز ہے۔اس تقریر سے ظاہر ہوتا تھا کہ قرآن شریف علوم کا ایک ایسا سمندر ہے کہ اس میں ہر ایک ضروری چیز پائی جاتی ہے۔ایام جلسہ میں ہر روز بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔بیعت کرنے والوں کی تعداد بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی کہ لوگوں کو حضور تک پہنچنا اور معمول کے مطابق حضرت اقدس علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا ناممکن ہو جاتا اس لئے پگڑیوں کے ذریعہ بیعت کی جاتی اور اس کا طریق یہ ہوتا کہ لوگ اپنی پگڑیاں اتار کر مختلف سمتوں میں پھیلا دیتے اور بعض پگڑیوں کو ایک دوسری سے باندھ کر دور دور تک پہنچا دیا جاتا۔ان پگڑیوں کا ایک سرا اُن بیعت کرنے والوں کے ہاتھ میں ہوتا جو حضرت اقدس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کر رہے ہوتے تھے اور دوسرے بیعت کرنے والے ان پگڑیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتے اس طرح گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان بیعت کرنے والوں میں روحانی روکا تسلسل قائم کیا جاتا۔