روشنی کا سفر — Page 88
پاکوں کے سردار حضور سرور کائنات فخر موجودات مﷺ کی مقدس ذات بابرکات پر ایسی ایسی تہمتیں لگا ئیں کہ مسلمانوں کے جگر پاش پاش ہو گئے۔اجلاس کے پریذیڈنٹ نے اگر چہ بعد ازاں معذرت کی کہ یہ لیکچر ہم نے پہلے سے نہیں دیکھا تھا۔مگر یہ عذر گناہ بدتر از گناہ تھا۔وہ چاہتے تو لیکچر کو دورانِ تقریر میں بھی روک سکتے تھے۔در حقیقت یہ پرلے درجہ کی شرارت اور بدگوئی ایک سوچی سمجھی انتقامی سازش کے ساتھ عمل میں لائی گئی تھی۔حضرت اقدس کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو حضور نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ تم لوگوں کو وہاں ایک منٹ بھی نہیں ٹھہرنا چاہئے تھا۔فوراً اٹھ کر آ جاتے۔بہت دیر کے بعد حضور کی ناراضگی دور ہوئی۔حضور کا یہ مضمون چشمیہ معرفت میں موجود ہے۔جو روحانی خزائن کی جلد نمبر 23 میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔۸۶ - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا آخری جلسہ سالانہ 1907 ء کا سالانہ جلسہ تاریخ احمدیت میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ آخری جلسہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک زندگی میں ہوا۔6 جلسہ سالانہ 1907ء کے لئے احباب کی آمد 19 دسمبر سے شروع ہو گئی تھی۔چند ایک دوست اس سے بھی پہلے قادیان پہنچ چکے تھے مگر سب سے پہلے آنے والی جماعت دوالمیال کی تھی جو اپنے امیر مولوی کرم داد صاحب کے ہمراہ قادیان پہنچی تھی۔اس کے بعد ہر روز ملک کے چاروں طرف سے بکثرت احباب کی آمد شروع ہو گئی۔24 دسمبر کی شام اور اس کے بعد سیالکوٹ۔۔۔وزیر آباد گوجرانوالہ جہلم گجرات، لاہور، امرتسر، کپورتھلہ لودھیانہ جالندھر دہلی اور دیگر مختلف اطراف کی جماعتیں وارد ہوئیں۔27-26 دسمبر کو بھی مہمانوں کی بکثرت آمد ہوئی۔27 دسمبر کو بیت اقصیٰ میں جمعہ پڑھا گیا۔جمعہ کے وقت بیت اقصیٰ کے اندر اور باہر کا صحن پوری طرح بھر گیا اور خدام نے اردگرد کے دوکانوں، گھروں اور ڈاکخانہ کی چھتوں پر نماز جمعہ کے ساتھ ہی نماز عصر بھی جمع کی۔اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنے خدام سے نہایت روح پرور خطاب فرمایا جس میں حضور نے سورۃ فاتحہ کی لطیف تفسیر بیان فرمانے کے بعد جماعت کو تزکیہ نفس کی طرف توجہ دلائی۔28 دسمبر 1907ء کو ظہر وعصر کی نمازیں بیست اقصیٰ میں جمع ہوئیں۔بعد ازاں حضرت اقدس نے دوسری تقریر فرمائی جس کی ابتداء میں حضور نے فرمایا جو کچھ کل میں نے تقریر کی تھی اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا کیونکہ بسبب علالت طبع تقر برختم