روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 87 of 104

روشنی کا سفر — Page 87

کتاب الہامی ہو سکتی ہے۔اور اگر ہوسکتی ہے تو کونسی؟ سیکرٹری آریہ سماج ڈاکٹر چرنجیو بھاردواج نے اس اشتہار کے علاوہ حضور کی خدمت میں کئی انکسار کے خط لکھے اور عاجزانہ درخواست کی کہ آپ بھی ان سوالات کے جواب لکھیں کیونکہ ہم لوگ آپ کے درشن کے بھی مشتاق ہیں مگر حضور کو چونکہ اس ملمع دار اشتہار اور انکساری کے خطوط پر اعتماد نہیں تھا اس لئے آپ نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔مزید برآں اخبار الحکم (10 نومبر 1907ء) میں نوٹ شائع کیا کہ اشتہار کے مطابق مذہبی کا نفرنس کے لئے صرف چند گھنٹے مخصوص کئے گئے ہیں۔آریہ سماج کو اگر مذہبی شوق تھا تو وہ کئی دن اس غرض کے لئے رکھ سکتی تھی۔پس یہ اشتہار محض نمائشی ہے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کا اصرار اور حضور کی طرف سے رضامندی اس نوٹ کی اشاعت کے بعد آریہ سماج لاہور نے مذہبی کا نفرنس کے لئے چار دن (2-3-4-5 دسمبر 1907 ء ) مقرر کر دئیے۔اس دوران میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسٹنٹ سرجن لاہور بھی حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آریہ سماج کا سیکرٹری میرا دوست ہے اس نے پختہ یقین دلایا ہے کہ اس جلسہ میں مذاہب کے متعلق کوئی دل شکنی کی بات نہ ہوگی بلکہ وہ اس بات کے لئے گویا قسم کھانے کو بھی تیار ہو گئے۔حضرت اقدس نے ان کی طرف سے جو اس قدر اصرار دیکھا تو جلسہ میں مضمون بھجوانے کے لئے رضامند ہو گئے اور اپنے خدام کو بھی اطلاع دے دی کہ وہ آریہ صاحبوں کے جلسہ پر حاضر ہوں اور ان کو تسلی دی کہ وہ بڑی شرافت اور تہذیب سے مضمون سنائیں گے۔2 دسمبر 1907ء کو سناتن دھرم اور عیسائیوں کی طرف سے مضامین پڑھے گئے اور 3 دسمبر کا دن برہموں اور مسلمانوں کے لئے مخصوص تھا۔حضرت اقدس کے لئے آریہ سماج نے 3 دسمبر 1907 ء کی شام کو 8 بجے سے 10 بجے تک کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔جہاں پہلے اجلاسوں میں حاضری معمولی تھی وہاں اس روز لوگ 5 بجے ہی آنا شروع ہو گئے اور 6 بجے تک آریہ مندرو چھووالی ( جہاں جلسہ ہورہا تھا ) کا صحن، کمرے اور گیلری سب پر ہو گئے 6 بجے کا روائی شروع ہوئی اور سب سے پہلے ماسٹر رگھوناتھ سہائے نے برہمو سماج کے نمائندہ کی حیثیت سے ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔یہ لیکچر ابھی ختم نہ ہوا تھا کہ داخلہ ٹکٹ بند کردینا پڑے۔سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں نے قبل از میں قلمی اشتہار چسپاں کر دئیے تھے کہ لوگ اس جلسہ میں نہ جائیں مگر اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ لوگ اس قدر کثرت سے پہنچے کہ تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ماسٹر رگھوناتھ کا لیکچر ختم ہوا تو حضرت مولوی نورالدین صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور نہایت درجہ بلند آواز سے لیکچر پڑھنا شروع کیا جب کوئی آیت آپ تلاوت فرماتے تو مجلس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔مضمون کا ابتدائی حصہ حضرت مولوی صاحب نے اور آخری حصہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھا یہ مضمون سوا دو گھنٹے تک جاری رہا۔4 دسمبر 1907 ء کا دن آریہ سماج نے اپنے لئے مخصوص کیا تھا۔عیسائیوں سنا تنیوں اور دوسرے غیر مذاہب کے نمائندوں کی تقریر میں کوئی خلاف تہذیب وشائستگی بات نہ تھی۔اور حضور کا مضمون تو سرتا پاصلح و ان کا پیغام تھا۔مگر افسوس اس روز وہی ڈاکٹر چر نجیو بھاردواج ( جس نے بار بار تہذیب و شائستگی کا یقین دلایا تھا) کھڑا ہوا اور اپنے مضمون میں نہایت شوخی اور بیبا کی سے ا