روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 73 of 104

روشنی کا سفر — Page 73

اور پھر ایسا ہی ہوا۔1908ء میں آپ کی وفات ہوئی اور 1914ء میں دنیا نے جنگ عظیم اوّل کی ہولنا کیوں میں قدم رکھ دیا۔چار سال تک متواتر دنیا ایک دوسرے کے خلاف لڑتی رہی۔لاکھوں لوگ مارے گئے۔حکومتوں پر انقلاب آگئے۔اور روس کا طاقتور اور جابر بادشاہ جسے زار کا لقب دیا جاتا تھا۔15 مارچ 1917ء کو با حالت زار حکومت سے علیحدہ کر دیا گیا۔اور صرف اسی پر بس نہیں ہوئی بلکہ 16 جولائی 1918ء کو بہت دکھ اور تکلیفیں دیکھنے کے بعد بالآخر زار روس کو اس کے بیوی بچوں سمیت بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔۷۴۔مدرسہ احمدیہ کا آغاز حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد دسمبر 1905 ء میں سلسلہ احمدیہ کے ایک اور بزرگ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی وفات پاگئے۔ان دونوں علماء کی وفات سے جماعت میں جو خلاء پیدا ہوا اس کی وجہ سے خدائی تصرف کے ماتحت حضور کا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ جماعت میں علماء پیدا کرنے کا کوئی مستقل نظام ہونا چاہئے۔چنانچہ آپ نے 6 دسمبر 1905 ء کوفر مایا۔”ہماری جماعت میں سے اچھے اچھے لوگ مرتے جاتے ہیں چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب جو ایک مخلص آدمی تھے اور ایسا ہی اب مولوی برہان الدین صاحب جہلم میں فوت ہو گئے۔اور بھی بہت سے مولوی صاحبان اس جماعت میں فوت ہوئے مگر افسوس کہ جو مرتے ہیں ان کا جانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا۔“ چنانچہ حضرت اقدس نے اس صورتحال کا جائزہ لینے اور اصلاحی قدم اٹھانے کے لئے بہت سے احباب کو بلا کر ان سے مشورہ کیا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایسی اصلاح ہونی چاہئے کہ یہاں سے واعظ اور علماء پیدا ہوں جو دنیا کی ہدایت کا ذریعہ بنیں۔بعض احباب نے اس پر یہ رائے دی کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو توڑ کر ایک خالص مذہبی مدرسے کی بنیا د رکھی جائے لیکن حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مرزا بشیر الدین صاحب محمود احمد صاحب نے اس تجویز کی مخالفت کی اور حضرت اقدس کے منشاء کے مطابق یہ مشورہ دیا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام قائم رہے لیکن اس میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں کہ اصل مقصد حاصل ہو سکے۔حضرت مسیح موعود نے بھی اسی خیال کو پسند فرمایا اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں ہی دینیات کی ایک شاخ کھولنے کا فیصلہ فرمایا جو جنوری 1906ء میں کھول دی گئی۔اسی شاخ کے قیام سے در اصل مدرسہ احمد یہ یا جامعہ احمدیہ کی بنیاد پڑی جو آج خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا ایک اہم علمی حصہ بن چکا ہے۔اور امام وقت کی ہدایات کے تابع ایسے علماء پیدا کر رہا ہے جو دنیا کے کونے کونے میں اشاعت احمدیت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔