روشنی کا سفر — Page 74
۷۵۔رسالہ الوصیت اور جماعت احمدیہ میں نظام خلافت کی پیشگوئی اللہ تعالی نے ۱۹۰۵ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر فرمایا کہ آخری حصہ زندگی کا یہی ہے جواب گزررہا ہے۔چنانچہ ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۵ کو حضور نے رویا میں دیکھا کہ ایک کو ری ٹنڈ (مٹی کا برتن جس میں پانی رکھا جاتا ہے ) میں کچھ پانی مجھے اللہ نے دیا ہے۔پانی صرف دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے لیکن بہت مصفی اور منقطر پانی ہے۔اس کے ساتھ یہ الہام ہوا آب زندگی پھر الہام ہوا خدا کی طرف سے سب پر اداسی چھا گئی دسمبر ۱۹۰۵ میں بتایا گیا قرب اجلک المقدر ( یعنی تیری اجل مقدر آگئی ہے ) بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا بعد اس کے تمہارا واقعہ ہوگا۔تمام عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔دسمبر 1907ء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مزید اس حادثہ کی تعین میں یہ الہام ہوا۔ستائیس کو ایک واقعہ ( ہمارے متعلق ) اللہ خیر و ابقی۔الوصیت کی تصنیف ان الہی خبروں کی بناء پر حضور نے 20 دسمبر 1905ء کو الوصیت“ کے نام سے ایک رسالہ شائع فرمایا جس میں ان الہامات کا تذکرہ کر کے حضور نے جماعت کو نہایت شفقت بھرے الفاظ میں اپنے اندر روحانی انقلاب بر پا کرنے کی تلقین فرمائی اور اپنے بعد قدرت ثانیہ یعنی نظام خلافت کے ظہور کی خوشخبری دی۔چنانچہ لکھا۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ انسان کو اس زمین میں پیدا کیا ہے ہمیشہ اسی سنت کو وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کتب الله لا غلين انا ورسلی اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے نبی غالب رہیں گے ) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے۔اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشان کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخمریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دیکر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے۔مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور