روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 72 of 104

روشنی کا سفر — Page 72

قادیان میں بلکہ دیگر مقامات پر بھی احمدی احباب کی غیر معمولی حفاظت فرمائی۔حضور زلزلے کے دوران گھر سے اپنے باغ میں تشریف لے آئے جہاں آپ کی معیت میں دیگر احمدی بھی آکر رہنا شروع ہو گئے۔آپ 14اپریل 1905 ء کو باغ میں تشریف لائے اور قریباً 3 ماہ تک باغ میں ہی عارضی رہائش گاہ میں قیام فرمایا جس کے بعد 2 جولائی 1905ء کو ظہر کی نماز ادا کر کے خیریت سے قادیان واپس آگئے۔۷۔جنگ عظیم کے بارے میں پیشگوئی ، حضرت اقدس مسیح موعود نے اپریل 1905ء میں اپنی کتاب براھین احمدیہ حصہ پنجم میں دنیا پر ایک بہت بڑی مصیبت کے آنے کی پیشگوئی فرمائی اور بتایا کہ مجھے خدا تعالی کی طرف سے بار بار ہولناک زلازل کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ ایسے زلزلے آئینگے جو قیامت کے نمونے ہونگے۔لیکن فرمایا کہ میں ابھی تک اس زلزلے کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر محمول نہیں کر سکتا۔ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلا دے۔اور جسکی نظیر کبھی اس زمانے نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آئے۔نیز آپ نے اس کتاب میں 456 اشعار پر مشتمل ایک نظم بھی تحریر فرمائی جس کے آخر میں اس ہولناک آفت کا بھی ذکر کیا۔آپ نے لکھا اک نشان ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد گردش کھا ئینگے دیہات و شہر و مرغزار جس آئے گا قہر خدا ނ خلق پر اک انقلاب برہنہ ہوگا کہ باندھے ازار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار غرض آپ نے بڑی تفصیل سے اس آنے والی آفت کا ذکر کیا۔لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ نے خدا تعالی سے یہ دعا ئیں بھی جاری رکھیں کہ یہ آفت آپ کی زندگی میں نہ آئے۔چنانچہ آپ نے دعائیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے الہاما آپ کو بتایا کہ اخره الله الى وقت مسمى یعنی اللہ تعالیٰ نے مصیبت کو ایک معین عرصہ کے لئے ٹال دیا ہے۔