روشنی کا سفر — Page 71
حضور حاضر ہو گئیں۔آپ کی نماز جنازہ 7 مئی بروز جمعرات شام 5 بجے بیت اقصیٰ ربوہ میں حضرت مولوی محمدحسین صاحب (رفیق حضرت مسیح موعود ) نے پڑھائی جس کے بعد شام 6۔30 بجے بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔احمد مسیح پاک کی لخت جگر دختر ہوں ہزاروں رحمتیں اس کی مبارک ذات پر پاک سیده طینت باصفا عالی وخت کرام جان مہدی کی نیں نور نظر نشانی بھی مرے مرے محبوب رخصت ہوئی نہ دیکھ پائے گی نظر چاہے پر نہ از محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبه منقول از کتاب دخت کرام صفحه 467-466) حضرت مسیح موعود کی صداقت کا نشان ۷۲۔زلزلے کا ایک دھکہ 1903ء کے آخر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل یہ خبر دی جارہی تھی کہ خدا تعالیٰ اپنے مرسل کی سچائی کے ثبوت کے طور پر زلزلوں کی شکل میں اپنے زور آور حملے ظاہر کرے گا۔چنانچہ دسمبر 1903ء میں حضور کو بذریعہ رویا زلزلہ کا ایک دھکہ آنے کی خبر دی گئی۔اور اس کے بعد کئی ایک الہامات میں یہ بات کھول کر بتا دی گئی کہ ایک خطرناک زلزلہ آنے والا ہے نیز یہ بھی بتا دیا گیا کہ آپ اور آپ کے روحانی گھر میں شامل افراد ان زلازل کی تباہی اور ہلاکت سے غیر معمولی طور پر بچائے جائینگے۔چنانچہ آپ کی یہ سب پیش خبریاں جماعت کے اخبارات اور اشتہارات کے ذریعے سے کھول کر دنیا کے سامنے پیش کردی گئیں۔14 اپریل 1905 ء کا دن ان تمام الہامات اور پیش خبریوں کی تصدیق کرنے والا دن بن کر طلوع ہوا جس دن خدائی تقدیر کے مطابق کانگڑہ کی ایک بے ضررسی پہاڑی حرکت میں آگئی اور طلوع آفتاب کے وقت صبح چھ بجے کے لگ بھگ کانگڑہ اور اس کے ارد گر د سینکڑوں میل تک ایک قیامت خیز زلزلے کا آغاز ہو گیا۔زلزلے کے مرکز میں تو اس کی اتنی شدت تھی کہ عمارتوں کے پر نچے اڑ گئے۔اور مضبوط تعمیرات مٹی کا ڈھیر بن گئیں۔جبکہ دیگر شہروں مثلاً لاہور، گوجرانوالہ جموں امرتسر دہلی اور شملہ وغیرہ میں بھی اس زلزلے سے خاصا نقصان ہوا اور ہزاروں لوگ اس زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔یہ دن قیامت کی یاد دلانے والا دن تھا جس نے ایسے خوفناک تاثرات پیچھے چھوڑے کہ اخبارات اور رسائل نے فی الحقیقت اسے قیامت صغریٰ ہی قرار دیا۔اس زلزلے کے جھٹکے قادیان میں بڑی شدت سے محسوس کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق نہ صرف