روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 67 of 104

روشنی کا سفر — Page 67

ہوئی ہے۔رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں۔لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے اس۔فتح کا گھر بنادے۔“ (ذکر حبیب صفحہ 110-109 ) چاہے خدا قبضہ تقدیر میں دل ہیں اگر پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو وہ دل سنگیں جو ہووے مثل سنگ کوهسار (در مشین) کابل ۶۹۔خدا کی نظر سے گری ہوئی بد قسمت زمین کابل افغانستان کے رہنے والے ایک عظیم عالم اور صاحب کشف والہام بزرگ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب تک جب حضرت مسیح موعود کا پیغام پہنچا تو آپ کی باتوں کی سچائی کو انہوں نے اپنی خداداد فراست کی بناء پر فوراً محسوس کر لیا اور دسمبر 1900ء میں آپ نے اپنے کچھ شاگردوں کے ہاتھ اپنی بیعت کا خط حضور کی خدمت میں قادیان بھجوا دیا۔جس کے بعد 1902ء میں آپ حضرت اقدس مسیح موعود سے ملنے کیلئے قادیان تشریف لائے اور یہاں آ کر امام وقت سے محبت اور پیار کا یہ تعلق عشق میں بدل گیا جس نے آپ کے دل سے دوسرا ہر نقش مٹا دیا۔تقریباً چھ ماہ تک آپ قادیان میں ٹھہرے رہے جس کے بعد آپ نے واپسی کا ارادہ کیا کیونکہ آپ کابل میں امیر کابل کے دربار کے ساتھ وابستہ تھے اور چھ ماہ ہی کی رخصت لے کر کابل سے روانہ ہوئے تھے۔یہ غالبا جنوری 1903 ء کا واقعہ ہے جب آپ قادیان سے رخصت ہوئے۔حضرت مسیح موعود خود آپ کو رخصت کرنے کے لئے قادیان سے باہر تک تشریف لائے اور بڑی محبت سے آپ کو رخصت کیا۔