روشنی کا سفر — Page 68
بٹالہ اور لاہور سے ہوتے ہوئے آپ کو ہاٹ پہنچے جہاں سے خوست کے لئے روانہ ہوئے۔اور کابل کی ریاست میں داخلے سے پہلے ہی انہوں نے بذریعہ خط تمام حالات لکھ کر کابل روانہ کر دئیے تا کہ امیر کا بل حبیب اللہ خان کا رویہ معلوم کرسکیں لیکن امیر کابل نے چالاکی کے ساتھ اپنی دلی کیفیات کو چھپا کر آپ کو یہ پیغام بھجوایا کہ آپ بلاخوف کابل آجا ئیں اگر مسیح موعود کا دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مان لوں گا اور ان کا مرید ہو جاؤں گا۔اور ساتھ ہی اس ظالم شخص نے خوست کے حاکم کو آپ کی گرفتاری کا حکم بھی روانہ کر دیا۔کر دیا گیا۔امیر حبیب اللہ خان کے حکم کے مطابق خوست میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور آٹھ سپاہیوں کے نرغے میں آپ کو کابل روانہ ایک دردناک داستان کا آغاز ہو چکا تھا۔جس کا انجام حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت پر ہونا مقدر ہو چکا تھا۔آپ کو جب گرفتار کر کے امیر کابل کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ آپ کے ساتھ بہت بدتمیزی سے پیش آیا بلکہ یہاں تک کہا کہ اس شخص کو مجھ سے دور کھڑا کرو مجھے اس سے بو آتی ہے۔اس کے بعد امیر کے حکم پر آپ کو قلعے میں قید کر دیا گیا اور قریباً 64 سیر وزنی لوہے کی زنجیر آپ کی گردن اور کمر میں ڈالدی گئی۔یہ وہی صاحبزادہ عبداللطیف تھے جو احمدیت قبول کرنے سے قبل کابل میں علم وفضل کے حوالے سے مستند ترین نام تھے۔خود امیر کابل آپ کی علمی اور روحانی صلاحیتوں کا معترف تھا اور آپ کو بڑی عزت دیا کرتا تھا۔لیکن حق کو قبول کرنے کی پاداش میں حالات نے کیا عجیب رُخ اختیار کیا تھا کہ وہی صاحبزادہ عبداللطیف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔صرف اسلئے کہ انہوں نے وقت کے امام کی آواز پر لبیک کہا تھا۔یہ قید و بند کا سلسلہ چار ماہ تک جاری رہا جس کے دوران امیر کا بل نے بار بار آپ کو اپنے عقیدے سے تو بہ کرنے کے لئے کہا۔بہت سے لالچ دیئے اور سمجھایا کہ اپنا نہیں تو اپنے بیوی بچوں کا ہی خیال کرو اور اس عقیدے کو چھوڑ دوور نہ اس جرم کی پاداش میں سنگسار کر دیئے جاؤ گے۔صدق و وفا کے اس عظیم پیکر نے ہر مرتبہ امیر کی باتوں کو سنا اور بڑے عزم سے انہیں رد کر دیا اور کہا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے۔اور جان اور بیوی بچوں کی کیا حیثیت ہے کہ میں ان کے لئے ایمان کو چھوڑ دوں۔غرض جب امیر کے پیہم اصرار کے باوجود آپ نے احمدیت چھوڑنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے آپ کے خلاف ایک لمبا چوڑا پر چہ لکھا جس میں مولویوں کے فتاوی درج کر کے لکھا کہ ایسے کافر کی سزاسنگسار کرنا ہے چنانچہ اس فتویٰ کے مطابق آپ کے ناک کو چھید کر اس میں رسی ڈالی گئی اور بڑے اذیت ناک طریق پر کھینچ کر سنگسار کرنے کے لئے میدان میں پہنچایا گیا۔شہر کے ہزاروں لوگ خدا تعالیٰ کے غضب سے بے پرواہ اس نظارے کو دیکھنے کے لئے میدان میں جمع تھے۔وہ نہیں جانتے تھے کہ سرز مین کابل پر کتنے بڑے ظلم کا ارتکاب ہونے جارہا ہے۔ایسا ظلم جس کی سزا صدیوں تک چلنی تھی۔