روشنی کا سفر — Page 66
”مرے ڈوٹی کا بیٹا نہیں ہے بلکہ ولد الحرام ہے۔یہ تباہ کن خبر ڈوئی کی اخلاقی موت کا پیام لے کر آئی لیکن صرف اسی پر بس نہیں ہوئی بلکہ یکم اکتوبر 1905ء کو اس پر فالج کا سخت حملہ ہوا جس کے بعد 19 دسمبر 1905ء کو فالج کے دوسرے حملے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور ڈوئی مکمل طور پر معذور ہو گیا۔مریدوں پر اس کی بیماری کے دوران اس کے کالے کارنامے کھلے تو انہوں نے اسے نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ ہر اعتبار سے معزول کر دیا۔عدالتی چارہ جوئی بھی اس کے کچھ کام نہ آئی اور بالآخر 9 مارچ 1907ء کی صبح نہایت حسرت کے ساتھ وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعود کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر گیا۔جو خدا کا ہے اُسے للكارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر ڈال اے روبه زار و ہے راه پر مرے وہ خود کھڑا مولا اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ نزار کریم وار ( در مشین) ۶۸۔بیت الدعا کی تعمیر قادیان کے متبرک مقامات سے واقفیت رکھنے والوں کے لئے بیت الدعا کا نام بہت معروف ہے۔وہاں جانے والوں کی بھاری اکثریت یہ خواہش رکھتی ہے کہ اپنے قیام کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور اس کمرے میں گزاریں اور اس مقدس مقام پر دعا ئیں کریں جہاں حضرت مسیح موعود نے تنہائی میں بہت دعائیں کیں۔حضرت اقدس کو بچپن ہی سے علیحدگی میں اپنے خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا بڑا شوق تھا۔عبادات سے آپ کو عشق تھا اور یہ عشق وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا۔چنانچہ 1903ء میں آپ نے کثرت سے تنہائی میں دعائیں کرنے کے لئے ایک علیحدہ کمرے کی بنیاد رکھی جس کا نام آپ نے بیت الدعاء تجویز فرمایا۔یہ 13 مارچ1903ء کا واقعہ ہے۔حضور اس کمرے کی بابت فرماتے ہیں۔”ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں۔ستر سال کے قریب عمر سے گزر چکے ہیں۔موت کا وقت مقرر نہیں خدا جانے کس وقت آجائے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی ہے ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت