روشنی کا سفر — Page 62
لوگوں کے لئے دین حق کو سمجھنے اور اس کے بارے میں پیدا شدہ غلط فہمیاں دور کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ میسر نہیں تھا لیکن جہاں ایک طرف علمی اور ادبی حلقوں میں اس کی تعریف کی جارہی تھی وہیں دوسری طرف عیسائیت کے علمبرداروں کے لئے یہ رسالہ ایک مشکل چیلنج کی حیثیت اختیار کرتا جارہا تھا۔وہ اس کے دلائل اور براہین سے خائف تھے جن کا جواب دینا ان کی استطاعت سے باہر تھا۔چنانچہ انگلستان کے اخبار چرچ فیملی (Church Family) نے لکھا کہ مرزا غلام احمد صاحب کے پیدا کردہ لٹریچر کا جواب نہ دیا جائے (ورنہ ) وہ عیسائیت کے خلاف ایسا حربہ لٹریچر کی شکل میں پیدا کر دینگے کہ بائیل کا صفایا ہو جائیگا۔سلسلے کی یہ مضبوط اور محکم شاخ جنوری 1902ء کو قائم ہوئی اور آج تک بڑی شان اور شوکت کے ساتھ نہ صرف قائم ہے بلکہ ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے۔مالی قربانی ۶۴۔چندوں کا مستقل نظام خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود کو جو نور عطا کیا گیا تھا آپ کی شدت سے خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نور سے منور ہوں۔آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ آکر ر ہیں اور اپنے وجودوں کو اس آسمانی روشنی سے فیضیاب کریں۔نیز یہ بھی کہ جو لوگ آ کر نہ رہ سکیں ان تک پیغام پہنچانے کے لئے کتابیں یا اشتہار شائع کئے جائیں۔اور ظاہر سی بات ہے کہ ان تمام کاموں کیلئے ہر ایک احمدی مخلص کی طرف سے مالی معاونت کی ضرورت تھی۔گو جماعت کے فدائی خدام کی طرف سے یہ سلسلہ پہلے سے جاری تھا کہ وہ ہر ایک خدمت کے لئے حسب توفیق بوجھ اٹھاتے چلے جاتے تھے لیکن اب وقت آچکا تھا کہ جماعت کے بڑھتے ہوئے مصارف کے لئے چندوں کا ایک مستقل اور با قاعدہ نظام قائم کیا جائے جس میں ہر ایک احمدی اپنی اپنی توفیق کے مطابق شامل ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے 5 مارچ 1902ء کو بذریعہ اشتہار جماعت کو یہ ہدایت فرمائی کہ ہر ایک احمدی اپنی توفیق کے مطابق ماہوار چندہ مقرر کرے اور پھر اس کے مطابق ادا ئیگی کرے آپ نے فرمایا۔ہر ایک شخص جو مرید ہے اس کو چاہئے جو اپنے نفس پر کچھ ماہواری چندہ مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو اور خواہ ایک دھیلہ۔اور جو شخص کچھ بھی مقر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلے کے 66 لئے کچھ بھی مدد دے سکتا ہے وہ منافق ہے۔اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں نہیں رہ سکے گا۔“ اس اشتہار کے نتیجے میں جماعت کے احباب میں بیداری کی ایک نئی لہر دوڑ گئی اور ہر ایک طرف سے پوری ہمت اور سرگرمی