روشنی کا سفر — Page 63
دکھائی گئی۔اور جماعت کے مخلصین کی قربانیاں روز بروز آگے سے آگے بڑھتی چلی گئیں۔حضرت اقدس مسیح موعود اپنی پاک جماعت کو خدا تعالیٰ کی راہ میں جس مالی قربانی کی عادت ڈال کر گئے وہ آج بھی جماعت احمدیہ کا ہی ایک امتیاز ہے۔اسی بناء پر حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع نو مبایعین کے حوالے سے جماعت کو بار بار یہ نصیحت فرما چکے ہیں کہ انہیں ابتداء سے ہی مالی قربانی کی عادت ضرور ڈالنی چاہئے کیونکہ یہ بات ان کی تربیت اور روحانیت کے لئے بہت ہی عمدہ ہے۔انی احافظ كل من في الدار ۲۵ کشتی نوح اور احمدیوں کی طاعون سے حفاظت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 5 اکتوبر 1902ء کو ایک عظیم الشان کتاب شائع فرمائی جس کا نام کشتی نوح تھا۔اس کتاب میں حضور نے طاعون کے سلسلے میں گورنمنٹ کی طرف سے کئے جانے والے حفاظتی انتظامات کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طاعون کے تعلق میں مجھے ایک عظیم نشان عطا کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو بھی شخص میرے گھر اور چاردیواری کے اندر ہو گا اور جو کامل پیروی اور اطاعت اور بچے تقویٰ سے مجھ میں محو ہو جائیگا وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔پس اس عظیم نشان کو دنیا کے سامنے واضح کرنے کے لئے آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ ہم طاعون سے بچانے والے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائیں گے تا کہ خدا تعالیٰ کا یہ نشان کسی بھی اعتبار سے مشتبہ نہ رہے۔پس اس کتاب میں ایک طرف تو آپ نے ٹیکے لگوانے سے احباب جماعت کو منع کیا اور ساتھ ہی ساتھ بڑی تفصیل سے جماعت کو نیکی اور تقوی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہماری تعلیم“ کے عنوان سے اس کتاب میں آپ نے ایک تفصیلی مضمون تحریر کر کے جماعت کو یہ سمجھایا کہ محض زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ بھی چیز نہیں ہے۔جب تک نیکی میں غیر معمولی ترقی اور بدیوں سے کلینا بے زاری نہ اختیار کی جائے کوئی بھی شخص حقیقی طور پر مسیح پاک کی جماعت میں سے کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔یوں تو حضرت مسیح موعود کی تمام تحریرات ہی فصاحت و بلاغت اور اثر انگیزی کی صفات کی حامل ہیں تا ہم اس کتاب میں آپ نے بہت ہی سادہ مگر دلکش اور پر اثر انداز میں اپنی جماعت کو قیمتی نصائح سے نوازا ہے۔چنانچہ ان سب پیشگوئیوں اور پیش خبریوں کے مطابق طاعون کے دنوں میں خدا تعالیٰ نے جماعت کی غیر معمولی حفاظت فرمائی جسے غیروں نے بھی محسوس کیا حفاظتی ٹیکے لگوانے کے باوجود جہاں عام لوگ ہزاروں کی تعداد میں طاعون کا شکار بن رہے تھے وہاں اللہ تعالیٰ نے حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے کے باوجود احمدی احباب کو طاعون سے کلیتا محفوظ رکھا اور ان ایام میں لوگ کثرت کے ساتھ