روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 61 of 104

روشنی کا سفر — Page 61

قادیان میں جب فونوگراف کا چرچا ہوا تو دوسرے لوگ بھی بڑی بے تابی سے اسے دیکھنے اور سننے کی درخواستیں کرنے لگے۔اور قادیان کے آریہ سماجی لالہ شر مپت رائے کو تو اس قدر اشتیاق ہوا کہ انہوں نے براہ راست حضرت اقدس سے اس خواہش کا اظہار کر دیا۔یہ 20 نومبر 1901 ء کا واقعہ ہے۔حضور نے ان کی درخواست نہ صرف منظور کر لی بلکہ اس تقریب کو بھی ایک تبلیغی نشست میں تبدیل فرما دیا۔آپ نے اس تقریب کیلئے فوری طور پر ایک خوبصورت نظم کہی جس کا پہلا شعر یہ تھا کہ آواز آرہی ہے فونوگراف ނ ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے اور پھر حضرت اقدس کی ہدایت کے ماتحت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کی نظم اور چند اور نظمیں ریکارڈ کروائیں اور یہ تیاری مکمل کر کے ساڑھے چار بجے کے قریب اسی روز درخواست کرنے والے آریوں ہندوؤں اور مسلمانوں کو حضور کے بالا خانے کے صحن میں بٹھا کر فونوگراف کے ذریعے یہ تمام چیز میں سنوائی گئیں۔یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا جلسہ تھا جو 20 نومبر 1901ء کو منعقد ہوا اور یوں جماعت احمدیہ نے نشری دنیا میں اپنا پہلا قدم بھی رکھا۔افسوس کہ یہ آوازیں جو ریکارڈ کی گئی تھیں دیر پا ثابت نہ ہوئیں اور یہ تاریخی آواز میں فونوگراف کے سلنڈربے کار ہونے کی وجہ سے ضائع ہوگئیں۔تاہم ان آوازوں کی گونج آج MTA کے ذریعے سے دنیا کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے۔۶۳۔رسالہ ریویو آف ریچن شائع ہونا شروع ہوتا ہے۔(Review of Religions حضرت اقدس مسیح موعود نے مغربی ممالک کے لوگوں تک پیغام حق پہنچانے کے لئے ایک انگریزی رسالہ شائع کرنے کی تجویز فرمائی تھی جس کی روشنی میں رسالہ ریویو آف ریلیچز انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں جنوری 1902 ء سے شائع ہونا شروع ہو گیا۔حضور کی توجہ اور دعاؤں کی بدولت اس رسالے کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور علمی اور ادبی حلقوں میں اس کی نیک شہرت تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی۔شروع شروع میں رسالے کے اکثر اردو مضامین حضرت اقدس کے ہی تحریر کردہ ہوتے تھے جو قارئین کی طبیعت پر انمٹ نقوش مرتب کرتے تھے۔یہی وجہ تھی اس وقت کے بڑے بڑے اخباروں اور رسالوں نے اس رسالے کی تعریف میں مضامین لکھے اور مغربی ممالک کے علم دوست اور سنجیدہ طبقے نے اس رسالے کا بڑی خوشی سے خیر مقدم کیا۔کیونکہ ان ممالک کے