روشنی کا سفر — Page 52
۵۳ - مقدمه دیوار بیسویں صدی کا آغاز ایک انتہائی دردانگیز اور تکلیف دہ واقعہ سے ہوا جس نے قریباً پونے دوسال تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو نہایت پریشانی میں مبتلا کئے رکھا۔حضرت اقدس کے چچا زاد بھائیوں مرزا امام الدین وغیرہ نے آپ کو اور آپ کے خدام کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے بیت مبارک کو مہمان خانے سے ملانے والی سڑک پر اینٹوں کی دیوار بنا کر اسے لوگوں کے استعمال کئے لئے بند کر دیا۔جس کی وجہ سے احمدی آبادی کو اپنے آقا سے ملنے اور آپ کے پاک کلمات سننے کے لئے قصبے کا ایک طویل چکر لگا کر آنا پڑتا تھا۔یہ راستہ نا ہموار اور خراب تھا جو بارش کے ایام میں اور بھی زیادہ تکلیف دہ بن جایا کرتا تھا۔بعض معززین نے مرزا امام الدین کو اس ظلم سے ہاتھ کھینچنے کو بھی کہا لیکن انہوں نے بڑے تکبر سے ہر قسم کی بات چیت کے دروازے بند کر دئیے۔اور یوں ایک تکلیف دہ سلسلے کا آغاز ہو گیا۔اس ناروا سلوک کو دیکھ کر اول تو حضرت اقدس نے قادیان سے ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن پھر یہ تجویز ہوا کہ اس دیوار کی تعمیر کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کر دیا جائے۔حضرت اقدس کی زندگی کا یہ پہلا اور آخری مقدمہ تھا جس میں آپ نے مدعی کی حیثیت سے کسی کے خلاف دعوی کیا۔اور وہ بھی صرف اس لئے کہ جماعتی اعتبار سے یہ مسئلہ زندگی موت کا مسئلہ تھا اور وکلاء کا کہنا یہ تھا کہ چونکہ یہ راستہ خاندان کا پرائیویٹ راستہ ہے اس لئے آپ کے علاوہ کوئی اور قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق نہیں رکھتا۔یہ مقدمہ شروع ہوا اور باوجود نامساعد حالات کے الہاما تو اتر کے ساتھ آپ کو اس مقدمے میں کامیابی کی نوید سنائی جاتی رہی۔اور پھر انہی پیش خبریوں کے مطابق 12 اگست 1901 ء کو عدالت نے مقدمے کا فیصلہ آپ کے حق میں کرتے ہوئے دیوار گرانے کا حکم صادر کر دیا اور مدعا علیہ مرزا امام الدین پر اخراجات مقدمہ کے علاوہ ایک صد روپیہ بطور ہرجانہ بھی ڈال دیا۔حضرت اقدس نے کمال شفقت سے ایک مرتبہ پھر اپنے دشمنوں کو نہ صرف معاف کر دیا بلکہ ان کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے خرچہ وغیرہ کی بیڈ گری بھی واپس کروا دی۔۵۴۔خطبہ الہامیہ کا نشان 11 اپریل 1900 ء کا دن ایک عظیم علمی نشان کا دن تھا۔اس روز عید الاضحیہ تھی اور اسی دن صبح کے وقت حضرت اقدس کو بذریعہ الہام یہ تحریک کی گئی کہ آج عید کا خطبہ عربی زبان میں ارشاد فرمائیں۔جناب الہی سے ارشاد پاتے ہی آپ نے اپنے بہت