روشنی کا سفر — Page 51
تصویر اتروانے کے اس قدم پر مخالف علماء جو تصویر کشی کو حرام قرار دیتے تھے ان کی طرف سے سخت شور برپا ہوا اور بڑی مخالفت کی گئی کہ اسلام میں تصویریں کھینچنا حرام ہے۔لیکن بالآخر وقت نے ثابت کریا کہ مامور وقت کا فیصلہ الہی منشاء کے عین مطابق تھا اور فوٹو گرافی جو دراصل ایک قسم کا آئینہ ہے۔اس کا استعمال ہر گز حرام نہیں ہے۔آج جدید دنیا میں فوٹو گرافی کے ذریعے سے بڑے بڑے علمی کام لئے جارے ہیں اور دنیا کی خدمت کی جارہی ہے۔۵۲ مسیح ہندوستان میں 1895ء کا سال اس اعتبار سے بہت اہم تھا کہ اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے سامنے یہ انکشاف فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام جنہیں عیسائی دنیا خدا کا بیٹا بنا کر آسمان پر بٹھا چکی ہے۔وہ دراصل صلیب سے نجات پانے کے بعد صحتیاب ہو کر ہندوستان کی طرف تشریف لائے تھے اور کشمیر میں سرینگر کے محلہ خانیار میں ان کی قبر موجود ہے جو اصل شہر سے قریباً 3 میل کے فاصلے پر خواص وعوام کے لئے ایک زیارت گاہ بنی ہوئی ہے اور یوز آسف نبی کی قبر کے نام سے موسوم ہے۔اس انکشاف نے مذہبی حلقوں میں ایک زلزلہ برپا کر دیا اور ہر طرف سے اس خیال کی تردید پیش کی جانے لگی۔لیکن خدا تعالیٰ نے جہاں ایک طرف اپنے مامور کی زبان سے یہ اعلان کروایا و ہیں دوسری طرف اس واقعہ کی تائید میں غیر معمولی گواہیاں بھی مہیا فرما دیں۔چنانچہ ہندوستان میں دو ایسے قدیم سکے برآمد ہوئے جن میں سے ایک پر حضرت مسیح کا نام پالی زبان میں کندہ تھا اور دوسرے پر آپ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔جس سے یہ پتہ چلتا تھا کہ حضرت مسیح اس ملک میں ضرور تشریف لائے ہیں۔اس انکشاف کو حضرت اقدس نے اپنی کتاب میں نور القرآن میں تحریر فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ آپ نے احباب جماعت کا ایک وفد اس بات کی مزید تحقیقات اور دلائل اکٹھے کرنے کے لئے سرینگر روانہ کیا جس نے اپنی تفصیلی رپورٹ حضور کی خدمت میں پیش کی۔جس کے بعد اپریل 1899 ء میں حضوڑ نے ایک تفصیلی کتاب اس موضوع پر مسیح ہندوستان میں“ کے نام سے تحریر فرمائی جس کی پہلی بار عام اشاعت 20 نومبر 1908ء کو ہوئی۔اس کتاب میں حضور نے تفصیل سے حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے اور ہجرت کے واقعات پیش کئے اور ناقابل تردید دلائل پیش فرمائے۔آپ نے قرآن و حدیث۔بائیل نیز تاریخی اور طبی کتب کے حوالوں سے یہ بات ثابت کی کہ حضرت مسیح نہ مصلوب ہوئے اور نہ ہی آسمان پر گئے تھے اور نہ کبھی وہ زمین پر دوبارہ نازل ہونگے۔بلکہ وہ 120 سال کی عمر پا کر سرینگر میں فوت ہوئے اور وہیں محلہ خانیار میں ان کی قبر موجود ہے۔یہ کتاب علم کلام کے خوبصورت اسلوب اور دلائل کو بڑی وضاحت سے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اور اس مسئلے کو واضح کرنے کے لئے اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔(روحانی خزائن کی جلد نمبر 15 میں یہ کتاب موجود ہے)