روشنی کا سفر — Page 53
سے خدام کو اس بارے میں اطلاع کروادی نیز مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور مولانا نورالدین صاحب کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ قلم اور دوات ساتھ لائیں تا کہ یہ خطبہ لکھا جا سکے۔حضرت اقدس ساڑھے آٹھ بجے بیت اقصیٰ تشریف لائے جس کے بعد سوا نو بجے مولوی عبدالکریم صاحب نے عید کی نماز پڑھائی۔نماز کے بعد خطبہ عید کیلئے حضرت اقدس کھڑے ہوئے اور پہلے اردو میں ایک پر معارف خطبہ ارشاد فر مایا اور پھر عربی زبان میں فی البدیہہ خطبہ ارشاد فرما نا شروع کیا۔باوجود عربی زبان سے ناواقفیت کے حاضرین پر جن کی تعداد 200 کے قریب تھی ایک وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔خود حضور بھی ایک عجیب کیفیت میں یہ خطبہ دے رہے تھے۔آپ نے بعد ازاں بتایا کہ میں خود امتیاز نہیں کر پار رہا تھا کہ میں بول رہا ہوں یا میری زبان سے فرشتہ کلام کر رہا ہے۔دوران خطبہ الفاظ خود آپ کی زبان پر جاری ہوتے جاتے تھے اور بعض اوقات لکھے ہوئے بھی نظر آتے تھے۔اس طرح جب تک یہ کیفیت رہی آپ بولتے گئے اور جب یہ کیفیت ختم ہوگئی تو حضور نے خطبہ ختم کر دیا۔یہ خطبہ چونکہ ایک عظیم علمی نشان تھا اس لئے حضرت اقدس نے احباب کو اسے زبانی یاد کرنے کی تحریک بھی فرمائی اور اگست 1901ء میں یہ خطبہ کتابی شکل میں شائع بھی ہو گیا جس میں اس کا اردو اور فارسی ترجمہ بھی خود حضور نے کر کے ساتھ لکھا اور اس تصنیف کا نام ”خطبہ الہامیہ رکھا۔یوں خدا تعالیٰ کی خاص نصرت و تائید سے عربی خطبہ کا یہ علمی نشان وقوع پذیر ہوا۔ہم سب کو بھی چاہئے کہ حضرت اقدس کی تحریک کے مطابق اس خطبے کو زبانی یاد کرنے کی کوشش کریں اور اس یاد کو تازہ کریں جو اس عظیم نشان کے ساتھ وابستہ ہے۔۵۵ مشہور عیسائی مشنری بشپ آف لاہور پادری لیفرائے کا مقابلے سے فرار ہندوستان میں سیاسی غلبہ حاصل ہوتے ہی عیسائی پادریوں نے مذہبی غلبے کے خواب بھی دیکھنے شروع کر دیے تھے۔اور اس مقصد کیلئے دن رات کوششیں شروع ہو چکی تھیں۔ہر ایک طرح سے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کا کام زوروں پر تھا اور کوئی نہیں تھا جو عیسائیت کے ان حملوں کا جواب دے سکے۔اسی پروگرام کے تحت ایک مشہور اور پر جوش پادری جارج الفریڈ لیـــفـــــرائـے