روشنی کا سفر — Page 44
مذاہب کے نمائندگان کی تقریروں پر برتری اور شاندار فتح کا ذکر کیا۔مجموعی طور پر یہ لیکچر قریباً چھ گھنٹے جاری رہا۔اور بعد ازاں اسے کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا۔آپ سب یقیناً جانتے ہیں کہ یہ کون سی کتاب ہے ! جی ہاں۔اس کتاب کا نام ہے اسلامی اصول کی فلاسفی جو روحانی خزائن کے جلد نمبر 10 میں موجود ہے۔۴۵۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ حضرت سید ہ نواب مبار که بیگم صاحبہ کی ولادت 2 مارچ 1897ء کو ہوئی۔حضرت مسیح موعود کو آپ کی پیدائش سے قبل اللہ تعالی نے ایک لڑکی کی بشارت دے رکھی تھی۔پھر جب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کی عمر چار سال کے لگ بھگ تھی تو حضوڑ کو آپ کے بارے میں الہام ہوا ” نواب مبار کہ بیگم ، جس میں آپ کے تابناک مستقبل اور نیک بختی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔چنانچہ اس الہام کے عین مطابق حضرت صاحبزادی صاحبہ کی شادی حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس اعظم ریاست مالیر کوٹلہ سے ہوئی۔آپ کا نکاح 17 فروری 1908ء کو ہوا جبکہ ایک سال بعد 14 مارچ 1909 ء کو آپ کی تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔آپ کا نکاح حضرت مولانا نورالدین صاحب نے حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں پڑھایا۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے نسبی تعلق کا فخر عطا فر مایا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ بلند پای علمی اور ادبی ذوق سے بھی نوازا تھا۔آپ کی شعری خدمات کا سلسلہ 1924 ء سے شروع ہوا اور آپ کی خوبصورت اور دلکش نظموں کا مجموعہ ” در عدن“ کے نام سے شائع ہوا۔جو سچے جذبات اور خوبصورت اشعار کا ایک حسین مرقع ہے۔آپ نے 23 مئی 1977ء کو قریباً80 سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ کے اشعار کی گونج آج بھی گھر گھر سنائی دیتی ہے۔بنترس از تیغ بران محمد ۴۶۔شاتم رسول پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام اسلام اور پانی ،اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں دلیری کے ساتھ گستاخیاں کرنے والے آریہ لیڈر پنڈت لیکھرام پشاوری کے بارے میں حضرت مسیح موعود فروری 1893ء میں اس کے مسلسل اصرار پر ایک مفصل پیشگوئی شائع فرما چکے تھے جس